مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ قَالَ : جَزِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عِنْدَ الْمَوْتِ جَزَعًا شَدِيدًا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، مَا هَذَا الْجَزَعُ ؟ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُدْنِيكَ وَيَسْتَعْمِلُكَ ؟ ! قَالَ : أَيْ بُنَيَّ ، كَانَ ذَلِكَ وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ ذَلِكَ أَمْ تَأَلُّفًا يَتَأَلَّفُنِي ؟ ، وَلَكِنْ أَشْهَدُ عَلَى رَجُلَيْنِ أَنَّهُ فَارَقَ الدُّنْيَا وَهُوَ يُحِبُّهُمَا : ابْنُ سُمَيَّةَ ، وَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ ، فَلَمَّا حَزَبَهُ الْأَمْرُ جَعَلَ يَدَهُ مَوْضِعَ الْغِلَالِ مِنْ ذَقْنِهِ وَقَالَ : اللَّهُمَّ أَمَرْتَنَا فَتَرَكْنَا ، وَنَهَيْتَنَا فَرَكِبْنَا ، وَلَا يَسَعُنَا إِلَّا مُغْفِرَتُكَ . وَكَانَتْ تِلْكَ هِجِّيرَاهُ حَتَّى مَاتَ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابونوفل بن ابوعقرب بیان کرتے ہیں : موت کے وقت سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پر شدید پریشانی کی کیفیت طاری ہو گئی جب ان کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اس صورت حال میں دیکھا تو کہا: اے ابوعبداللہ ! یہ پریشانی کس وجہ سے ہے ؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنے قریب رکھا تھا ، آپ کو عامل مقرر کیا تھا ، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! ایسا ہوا تھا ، لیکن میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں ، اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کی وجہ سے ایسا کیا تھا ؟ یا تالیف قلب کے طور پر ایسا کیا تھا ؟ البتہ میں دو افراد کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تھے ، تو آپ ان دونوں لوگوں سے محبت کرتے تھے ، ایک ابن سمیہ ( یعنی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ) اور ایک ابن ام عبد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) راوی کہتے ہیں : جب اُن کی طبیعت زیادہ بگڑنا شروع ہوئی ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ ٹھوڑی پر اس جگہ رکھا ، جہاں طوق آتا ہے اور پھر یہ کہا: اے اللہ ! تو نے ہمیں حکم دیا ، تو ہم نے اسے چھوڑ دیا ، تو نے ہمیں منع کیا ، تو ہم نے وہ کام کیے ، اب تیری عطا کردہ مغفرت ہی ہمارے لئے کفایت کر سکتی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو وصال کرنے تک اُن کے یہی کلمات رہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔