مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ : أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ حِينَ شَيَّعَ عَمْرًا : أَوَ تَزِيدُ النَّاسَ نَارًا ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا يَصْنَعُ هَذَا بِالنَّاسِ ؟ ! ، فَقَالَ : دَعْهُ ; فَإِنَّمَا وَلَّاهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعِلْمِهِ بِالْحَرْبِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْمُنْذِرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ابن بریدہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ لوگوں کی آگ میں اضافہ کریں گے ؟ کیا آپ نے دیکھا نہیں ہے کہ انہوں نے لوگوں کے ساتھ کیا کیا ہے ؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں رہنے دو ! کیونکہ انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر بنایا تھا ، کیونکہ یہ جنگ کے بارے میں بخوبی علم رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف منذر بن ثعلبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔