حدیث نمبر: 15891
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ رَمْثَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ وَخَرَجْنَا مَعَهُ ، فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ عَمْرًا " . فَتَذَاكَرْنَا كُلَّ مَنِ اسْمُهُ عَمْرٌو . فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ عَمْرًا " . قَالَ : ثُمَّ نَعَسَ الثَّالِثَةَ ، فَاسْتَيْقَظَ فَقَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ عَمْرًا " . فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ عَمْرٌو هَذَا ؟ قَالَ : " عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ " . قُلْنَا : وَمَا شَأْنُهُ ؟ قَالَ : " كُنْتُ إِذَا نَدَيْتُ النَّاسَ إِلَى الصَّدَقَةَ جَاءَ فَأَجْزَلَ مِنْهَا ، فَأَقُولُ : يَا عَمْرُو ، أَنَّى لَكَ هَذَا ؟ قَالَ : مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، وَصَدَقَ عَمْرٌو إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا كَثِيرًا " . ¤ قَالَ زُهَيْرُ بْنُ قَيْسٍ : لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : لَأَلْزَمَنَّ هَذَا الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا كَثِيرًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ زُهَيْرٌ : فَلَمَّا كَانَتِ الْفِتْنَةُ قُلْتُ : أَتَّبِعُ هَذَا الَّذِي قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالَ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علقمہ بن رمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بحرین بھیجا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگی مہم پر تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ ہم بھی گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آئی ، تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم کرے ، ہم نے ہر اس فرد کو یاد کیا جس کا نام عمرو تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آئی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم کرے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تیسری مرتبہ اونگھ آئی ، پھر جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم کرے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عمرو سے مراد کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : عمرو بن العاص ، ہم نے عرض کی : ان کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے لوگوں کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا ، جب عمرو آیا تو وہ بہت سا صدقہ لے کر آیا ، میں نے کہا: اے عمرو ! یہ کہاں سے آیا ہے ؟ تو اس نے کہا: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اور عمرو نے ٹھیک کہا: ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُس کے لئے بہت زیادہ بھلائی ہے ۔ زہیر بن قیس کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو میں نے سوچا کہ میں ان صاحب کے ساتھ رہوں گا ، جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے : کہ اُن کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت زیادہ بھلائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : زہیر نامی راوی نے کہا: جب فتنے کا زمانہ آیا تو میں نے سوچا کہ میں ان صاحب کے ساتھ رہوں گا ، جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ۔ امام أحمد کے رجال اور طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15891
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5/18)»