مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ رَاشِدٍ مَوْلَى حَبِيبِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ قَالَ : لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنَ الْأَحْزَابِ عَنِ الْخَنْدَقِ ، جَمَعْتُ رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا يَرَوْنَ مَكَانِي وَيَسْمَعُونَ مِنِّي ، فَقُلْتُ لَهُمْ : تَعْلَمُونَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى أَمْرَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْلُو الْأُمُورَ عُلُوًّا كَبِيرًا مُنْكَرًا ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَمْرًا فَمَا تَرَوْنَ فِيهِ ؟ قَالُوا : وَمَا رَأَيْتَ ؟ قُلْتُ : رَأَيْتُ أَنْ نَلْحَقَ بِالنَّجَاشِيِّ فَنَكُونَ عِنْدَهُ ، فَإِنْ ظَهَرَ مُحَمَّدٌ عَلَى قَوْمِنَا كُنَّا عِنْدَ النَّجَاشِيِّ ، فَإِنَّا أَنْ نَكُونَ تَحْتَ يَدَيْهِ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ أَنْ نَكُونَ تَحْتَ يَدَيْ مُحَمَّدٍ ، وَإِنْ ظَهَرَ قَوْمُنَا فَنَحْنُ مَنْ قَدْ عُرِفُوا ، فَلَنْ يَأْتِيَنَا مِنْهُمْ إِلَّا خَيْرٌ . قَالُوا : إِنَّ هَذَا الرَّأْيُ . قَالَ : قُلْتُ لَهُمْ : فَاجْمَعُوا لِي مَا يُهْدَى ، وَكَانَ أَحَبُّ مَا يُهْدَى إِلَيْهِ مِنْ أَرْضِنَا الْأَدَمَ ، فَجَمَعْنَا لَهُ أَدَمًا كَثِيرًا ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ ، فَوَاللَّهِ إِنَّا لَعِنْدَهَ إِذْ جَاءَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمَرِيُّ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ بَعَثَهُ إِلَيْهِ فِي شَأْنِ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا دَخَلَ إِلَيْهِ وَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ : فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي : هَذَا عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ لَوْ قَدْ دَخَلْتُ عَلَى النَّجَاشِيِّ وَسَأَلْتُهُ إِيَّاهُ فَأَعْطَانِيهِ ، فَضَرَبْتُ عُنُقَهُ ، فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَأَتْ قُرَيْشٌ أَنِّي قَدْ أَجْزَأْتُ عَنْهَا حِينَ قَتَلْتُ رَسُولَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قَالَ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَجَدْتُ لَهُ كَمَا كُنْتُ أَصْنَعُ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِصَدِيقِي ، أَهْدَيْتَ لِي مِنْ بِلَادِكَ شَيْئًا ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، أَيُّهَا الْمَلِكُ ثُمَّ قُلْتُ : أَيُّهَا الْمَلِكُ لَقَدْ أَهْدَيْتُ لَكَ أُدْمًا كَثِيرًا ، ثُمَّ قَدَّمْتُهُ إِلَيْهِ ، فَأَعْجَبَهُ وَاشْتَهَاهُ ثُمَّ قُلْتُ : أَيُّهَا الْمَلِكُ إِنِّي رَأَيْتُ رَجُلًا خَرَجَ مِنْ عِنْدِكَ وَهُوَ رَسُولُ رَجُلٍ عَدُوٍّ لَنَا ، فَأَعْطِنِيهِ فَأَقْتُلَهُ ; فَإِنَّهُ قَدْ أَصَابَ مِنْ أَشْرَافِنَا وَخِيَارِنَا . ¤ قَالَ : فَغَضِبَ ، وَمَدَّ يَدَهُ وَضَرَبَ بِهَا أَنْفَهُ ضَرْبَةً ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ كَسَرَهُ ، فَلَوِ انْشَقَّتْ لِيَ الْأَرْضُ لَدَخَلْتُ فِيهَا فَرَقًا مِنْهُ . ثُمَّ قُلْتُ : أَيُّهَا الْمَلِكُ ، وَاللَّهِ لَوْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ تَكْرَهُ هَذَا مَا سَأَلْتُهُ . قَالَ : تَسْأَلُنِي أَنْ أُعْطِيَكَ رَسُولَ رَجُلٍ يَأْتِيهِ النَّامُوسُ الْأَكْبَرُ الَّذِي كَانَ يَأْتِي مُوسَى لِتَقْتُلَهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : أَيُّهَا الْمَلِكُ ، أَكَذَاكَ هُوَ ؟ قَالَ : وَيْحَكَ يَا عَمْرُو ! أَطِعْنِي وَاتَّبِعْهُ; فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَعَلَى الْحَقِّ ، وَلَيَظْهَرَنَّ عَلَى مَنْ خَالَفَهُ كَمَا ظَهَرَ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ وَجُنُودِهِ . قَالَ : فَتُبَايِعُنِي لَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَبَسَطَ يَدَهُ ، وَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ . ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى أَصْحَابِي وَقَدْ حَالَ رَأْيِي عَمَّا كُنْتُ عَلَيْهِ ، وَكَتَمْتُ أَصْحَابِي إِسْلَامِي ، ثُمَّ خَرَجْتُ عَامِدًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقِيتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَكَانَ قُبَيْلَ الْفَتْحِ وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا سُلَيْمَانَ قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَقَامَ الْمَيْسَمُ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ نَبِيٌّ ، اذْهَبْ فَأَسْلِمْ ، فَحَتَّى مَتَى ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَاللَّهِ مَا جِئْتُ إِلَّا لِأُسْلِمَ قَالَ : فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَقَدَّمَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَسْلَمَ وَبَايَعَ ، ثُمَّ دَنَوْتُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَغْفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي وَلَا أَذْكُرُ مَا تَأَخَّرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَمْرُو ، بَايِعْ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهُ ، وَإِنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهَا " . قَالَ : فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ . ¤ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : وَقَدْ حَدَّثَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ كَانَ مَعَهُمَا أَسْلَمَ حِينَ أَسْلَمَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ مِنْ فِيهِ إِلَى أُذُنِي ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤حبیب بن اوس ثقفی کے غلام راشد بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بذات خود مجھے یہ بات بتائی : انہوں نے فرمایا : ” جب ہم غزوہ خندق کے موقع پر واپس گئے ، تو میں نے قریش کے کچھ افراد کو جمع کیا ، جو لوگ میری حیثیت سے واقف تھے میری بات سنتے تھے ، میں نے ان سے کہا: اللہ کی قسم ! تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے ، جو ایک قابل انکار چیز ہے ، تو میں نے ایک رائے سوچی ہے ، تم لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے دریافت کیا : آپ کی کیا رائے ہے ؟ میں نے کہا: میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ہم نجاشی کے پاس چلے جاتے ہیں ، اور وہاں رہیں گے ، اگر سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہماری قوم پر غالب آ گئے ، تو ہم نجاشی کے پاس ہی رہیں گے ، کیونکہ ہم اس کے ماتحت رہ کے زندگی گزاریں ، یہ ہمارے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ ہم سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ماتحت ہو جائیں اور اگر ہماری قوم غالب آ گئی ، تو ہم وہ لوگ ہیں کہ ہماری قوم کے لوگ ہماری حیثیت سے واقف ہیں ، ہمیں ان کی طرف سے بھلائی ہی نصیب ہو گی ، ان لوگوں نے کہا: یہ ایک اچھی رائے ہے ، میں نے ان سے کہا: پھر تم نجاشی کے لئے سامان تیار کرو ، جو اسے تحفے کے طور پر دیا جائے اور ہمارے علاقے کی چیزوں میں اس کے نزدیک تحفے میں سب سے زیادہ پسندیدہ چیز چمڑا ہے ، ہم نے اس کے لئے بہت سا چمڑا جمع کیا ۔ پھر ہم روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ اس کے پاس آئے ، جب ہم اس کے پاس پہنچے تو اسی دوران عمرو بن امیہ ضمری ( جو مسلمان تھے ) وہ اس کے پاس سے نکلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اسے نجاشی کے پاس بھیجا تھا ، جب ہم نجاشی کے پاس جا رہے تھے تو وہ وہاں سے نکل رہے تھے ، میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ تو عمرو بن امیہ ہے ، اگر میں نجاشی کے پاس جا کر اس سے اس فرد کو مانگوں ، تو وہ مجھے یہ دیدے گا اور میں اس کی گردن اڑا دوں گا اور جب میں ایسا کروں گا ، تو قریش یہ سمجھیں گے : میں نے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے قاصد کو قتل کر کے ان کی طرف سے بدلہ لے لیا ہے ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں نجاشی کے پاس گیا ، تو میں نے اسے سجدہ کیا ، جس طرح پہلے کیا کرتا تھا ، اس نے کہا: میرے دوست کو خوش آمدید ہے ، تم اپنے علاقے سے میرے لئے کوئی تحفہ لے کے آئے ہو ؟ میں نے کہا: اے بادشاہ ! جی ہاں ! پھر میں نے کہا: اے بادشاہ ! میں تمہارے لئے تحفے کے طور پر بہت سے چمڑے لے کے آیا ہوں ، پھر میں نے وہ اسے دیا ، وہ اسے اچھا لگا اور پسند آیا ۔ پھر میں نے کہا: اے بادشاہ ! میں نے ایک شخص کو تمہارے پاس سے باہر جاتے ہوئے دیکھا ہے ، وہ ہمارے دشمن کا قاصد ہے ، وہ فرد تم ہمارے حوالے کر دو ، تاکہ میں اسے قتل کر دوں ، کیونکہ اس نے ہمارے معززین اور بہترین لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو نجاشی غصے میں آ گیا ، اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اپنی ناک پر زور سے ضرب لگائی ، مجھے یوں لگا جیسے وہ اپنی ناک کو توڑ دے گا ، اس وقت اس کے خوف کی وجہ سے میں نے یہ سوچا کہ اگر زمین شق ہو جائے ، تو میں زمین کے اندر داخل ہو جاؤں ، پھر میں نے کہا: اے بادشاہ ! اللہ کی قسم ! اگر مجھے یہ اندازہ ہوتا کہ تم اس چیز کو ناپسند کرو گے ، تو میں نے یہ درخواست کرنی ہی نہیں تھی ، اس نے کہا: تم نے مجھ سے یہ درخواست کی ہے کہ میں تمہیں ان صاحب کا قاصد دے دوں ، جن کے پاس وہ ” ناموس اکبر “ آتا ہے ، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آتا تھا ، تاکہ تم اس قاصد کو قتل کر دو ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اے بادشاہ ! کیا ایسا ہی ہے ؟ اس نے کہا: اے عمرو ! تمہارا ستیاناس ہو ، تم میری بات مانو اور ان کی پیروی کر لو ، کیونکہ اللہ کی قسم ! وہ حق پر ہیں اور وہ اپنے مخالفین پر ضرور غالب آ جائیں گے ، جس طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کے لشکریوں پر غالب آئے تھے ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: تو کیا تم ان کی طرف سے اسلام پر مجھ سے بیعت لے لو گے ؟ اس نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے اسلام پر بیعت لے لی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر میں نکل کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا ، پہلے جو میرا خیال تھا وہ رکاوٹ بنا ہوا تھا ، میں نے اپنے ساتھیوں سے اپنا اسلام چھپایا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانے کے لئے نکلا ، راستے میں میری ملاقات سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، یہ فتح مکہ سے کچھ پہلے کی بات ہے ، وہ مکہ کی طرف سے آ رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : اے ابوسلیمان ! کہاں جا رہے ہو ؟ اس نے بتایا : اللہ کی قسم ! راستہ ٹھیک ہو گیا ہے ، وہ صاحب واقعی نبی ہیں ، میں جا رہا ہوں تاکہ اسلام قبول کر لوں ، آخر کب تک اس میں تاخیر کروں گا ؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں بھی اسلام قبول کرنے کے لئے ہی آیا ہوں ، راوی کہتے ہیں : پھر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، انہوں نے اسلام قبول کیا پھر بیعت کی ، پھر میں آگے ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس شرط پر آپ کی بیعت کروں گا کہ میرے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے ، راوی کہتے ہیں : مجھے بعد والی کوتاہیوں کے بارے میں خیال نہیں آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمرو ! تم بیعت کر لو ، کیونکہ اسلام اپنے سے پہلے کی تمام کوتاہیوں کو ختم کر دیتا ہے اور ہجرت اپنے سے پہلے کی سب چیزوں کو ختم دیتی ہے ، راوی کہتے ہیں : تو پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور پھر میں واپس آ گیا ۔ ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : مجھے اس فرد نے
یہ روایت بیان کی ہے جس پر میں تہمت عائد نہیں کرتا کہ سیدنا عثمان بن طلحہ بن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں حضرات کے اسلام قبول کرنے کے وقت ان کے ہمراہ اسلام قبول کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بذات خود مجھے یہ بات بیان کی ، جو میرے کانوں نے سنی ، ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔