مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15892
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : كَانَ إِسْلَامُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، وَعُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ ، فَقَدِمُوا الْمَدِينَةَ فِي صَفَرٍ سَنَةَ ثَمَانٍ مِنَ الْهِجْرَةِ . قُلْتُ : إِسْلَامُهُمْ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ مَعْرُوفٍ ، وَأَمَّا إِسْلَامُ خَالِدٍ وَعُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ فَلَمْ أَجِدْهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ مِنْ قَوْلِهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے نجاشی کے ہاں اسلام قبول کیا تھا ، پھر یہ لوگ ہجرت کے آٹھویں سال صفر کے مہینے میں مدینہ منورہ آئے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان حضرات کا ایک ہی دن اسلام قبول کرنا ایک معروف بات ہے ، لیکن سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کا نجاشی کے پاس اسلام قبول کرنا ، یہ روایت صرف میں نے ابن اسحاق کے قول کے طور پر ہی پائی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔