مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ نَاشِرَةَ بْنِ سُمَيٍّ الْيَزَنِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَوْمَ الْجَابِيَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ ، وَإِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ عَزْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، فَإِنِّي أَمَرْتُهُ أَنْ يَحْبِسَ هَذَا الْمَالَ عَلَى ضَعَفَةِ الْمُهَاجِرِينَ ، فَأَعْطَاهُ ذَا الْبَأْسِ ، وَذَا الشَّرَفِ ، وَذَا اللِّسَانِ ; فَعَزَلْتُهُ وَوَلَّيْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجِرَّاحِ . قَالَ أَبُو عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ : وَاللَّهِ مَا أَعْذَرْتَ يَا عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ ; لَقَدْ نَزَعْتَ عَامِلًا اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَمَدْتَ سَيْفًا سَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعْتَ لِوَاءً نَصَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَقَدْ قَطَعْتَ الرَّحِمَ ، وَحَسَدْتَ ابْنَ الْعَمِّ . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : إِنَّكَ قَرِيبُ الْقَرَابَةِ ، حَدِيثُ السِّنِّ ، مُعَصَّبٌ فِي ابْنِ عَمِّكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤ناشرہ بن سمی یزنی بیان کرتے ہیں : میں نے ” جابیہ “ کے دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ، یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : خالد بن ولید کو معزول کرنے کے حوالے سے ، میں تمہارے سامنے عذر بیان کرنا چاہتا ہوں ، میں نے اسے یہ ہدایت کی تھی کہ وہ یہ مال کمزور مہاجرین کے لئے سنبھال کے رکھے ، اور اس نے یہ مال طاقتور لوگوں ، مشرف والے لوگوں اور عمدہ کلام کرنے والے لوگوں کو دے دیا ، تو میں نے اسے معزول کر دیا اور ابوعبیدہ بن جراح کو والی مقرر کر دیا ۔ اس پر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے کہا: اے عمر بن خطاب ! اللہ کی قسم ! یہ کوئی عذر نہیں ہے ، آپ نے ایک ایسے عامل کو اس کے عہدے سے الگ کیا ہے جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل مقرر کیا تھا ، اور آپ نے ایک ایسی تلوار کو میان میں ڈال دیا ہے ، جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میان میں سے نکالا تھا ، اور آپ نے ایک ایسے جھنڈے کو نیچے کر دیا ہے ، جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نصب کیا تھا ، آپ نے رشتے داری کے حقوق کو پامال کیا ہے اور اپنے چچازاد سے حسد کیا ہے ، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری اس کے ساتھ رشتہ داری ہے ، تمہاری عمر بھی کم ہے اور تم اپنے چچازاد کی طرف داری کر رہے ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔