حدیث نمبر: 15876
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : اسْتَعْمَلَ عُمَرُ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الشَّامِ ، وَعَزَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ . قَالَ : فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : بُعِثَ عَلَيْكُمْ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " . فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَالِدٌ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ ، وَنِعْمَ فَتَى الْعَشِيرَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَرٍ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا عُبَيْدَةَ وَلَا عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین

عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر مقرر کیا تھا ، انہوں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: تمہارا امیر اس فرد کو مقرر کیا گیا ہے ، جو اس امت کا امین ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے ۔ “ تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” خالد ، اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار اور اپنے خاندان کا بہترین فرد ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ عبدالملک بن عمیر نے نہ تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے اور نہ ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15876
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (90/4)»