مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : شَكَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا خَالِدُ ، لَا تُؤْذِ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، فَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ تُدْرِكْ عَمَلَهُ " . فَقَالَ : يَقَعُونَ فِيَّ فَأَرُدُّ عَلَيْهِمْ ! فَقَالَ : " لَا تُؤْذُوا خَالِدًا ; فَإِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ صَبَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خالد ! تم ایسے شخص کو اذیت نہ پہنچاؤ ، جو غزوہ بدر میں شرکت کر چکا ہے ، اگر تم اُحد پہاڑ جتنا سونا خیرات کرو ، تو تم پھر بھی اس کے عمل تک نہیں پہنچ سکتے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لوگ مجھ پر تنقید کرتے ہیں ، تو میں انہیں جواب دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ خالد کو اذیت نہ پہنچاؤ ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کفار پر سونت کر رکھا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔