حدیث نمبر: 15844
وَعَنْ بُقَيْرَةَ امْرَأَةِ سَلْمَانَ قَالَتْ : لَمَّا حَضَرَ سَلْمَانَ الْمَوْتُ دَعَانِي وَهُوَ فِي عِلْيَةٍ لَهَا أَرْبَعَةُ أَبْوَابٍ ، فَقَالَ : افْتَحِي يَا بُقَيْرَةُ هَذِهِ الْأَبْوَابَ ، فَأَرَى الْيَوْمَ رُوَّادًا لَا أَدْرِي مِنْ أَيِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ يَدْخُلُونَ عَلَيَّ . ثُمَّ دَعَا بِمِسْكٍ لَهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَدِيفِيهِ فِي تَوْرٍ ، فَفَعَلْتُ ، ثُمَّ قَالَ : انْضَحِي حَوْلَ فِرَاشِي ، ثُمَّ انْزِلِي فَامْكُثِي فَسَوْفَ تُظْلِمِينَ قُرْبَتِي عَلَى فِرَاشِي ، فَاطَّلَعَتْ فَإِذَا هُوَ قَدْ أُخِذَ رُوحُهُ مَكَانَهُ عَلَى فِرَاشِهِ أَوْ نَحْوَ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ الْجَزْلِ عَنْ بُقَيْرَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بقیرہ بیان کرتی ہیں : جب سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے بلایا ، وہ اس وقت اپنے بالاخانے میں موجود تھے ، جس کے چار دروازے تھے ، انہوں نے فرمایا : اے بقیرہ ! ان دروازوں کو کھول دو ! آج میں ایسے ملاقاتیوں کو دیکھ رہا ہوں ، مجھے نہیں معلوم کہ وہ ان دروازوں میں سے کون سے دروازے سے میرے پاس آئیں گے پھر انہوں نے مشک منگوایا اور پھر فرمایا فاسے پانی میں ملا کر پیالے میں تیار کرو میں نے ایسا ہی کیا ، پھر انہوں نے فرمایا : اسے میرے لئے چھڑک دو ، پھر نیچے اتر جاؤ اور نیچے ہی ٹھہری رہنا ، عنقریب تم میرے بستر پر میری قربت کو تاریک پاؤ گی ، وہ خاتون کہتی ہیں : ( بعد میں ) جب میں نے جھانک کے دیکھا ، تو اس جگہ ان کی روح اُن کے بستر پر قبض ہو چکی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ، جزل کے حوالے سے سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15844
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6043)»