حدیث نمبر: 15841
وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ : أَتَانِي سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ يُسَلِّمُ عَلَيَّ وَعَلَيْهِ عَبَاءَةٌ قَطَوَانِيَّةٌ مُرْتَدِيًا بِهَا ، فَطَرَحْتُ وِسَادَةً فَلَمْ يُرِدْهَا ، وَلَفَّ عَبَاءَتَهُ فَجَلَسَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : بِحَسْبِكِ مَا بَلَغَكِ الْمَحَلُّ ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ سَاعَةً ، وَكَبَّرَ ، وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ صَاحِبُكِ - يَعْنِي أَبَا الدَّرْدَاءِ - ؟ قُلْتُ : هُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَا جَمِيعًا وَقَدِ اشْتَرَى أَبُو الدَّرْدَاءِ لَحْمًا بِدِرْهَمٍ فَهُوَ فِي يَدِهِ مُعَلِّقَهُ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ اخْبِزِي وَاطْبُخِي ، فَفَعَلْنَا ، ثُمَّ أَتَيْنَا سَلْمَانَ بِالطَّعَامِ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : كُلْ مَعَ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ; فَإِنِّي صَائِمٌ قَالَ سَلْمَانُ : لَا آكُلُ حَتَّى تَأْكُلَ ، فَأَفْطَرَ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَأَكَلَ مَعَهُ ، فَلَمَّا كَانَتِ السَّاعَةُ الَّتِي يَقُومُ فِيهَا أَبُو الدَّرْدَاءِ ذَهَبَ لِيَقُومَ ، أَجْلَسَهُ سَلْمَانُ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَتَنْهَانِي عَنْ عِبَادَةِ رَبِّي ؟ ! فَقَالَ سَلْمَانُ : إِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ نَصِيبًا ، وَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ نَصِيبًا . وَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ نَصِيبًا ، فَمَنَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ قَامَا فَرَكَعَا رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ أَوْتَرَا ، ثُمَّ خَرَجَا إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَذَكَرَا أَمْرَهُمَا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا لِسَلْمَانَ ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ ؟ لَقَدْ أُشْبِعَ مِنَ الْعِلْمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ جَبَلَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے ، انہوں نے مجھے سلام کیا ، انہوں نے قطوانی عباء پہنی ہوئی تھی ، جسے انہوں نے ارتداء کے طور پر اوڑھا ہوا تھا ، میں نے ان کے سامنے تکیہ رکھا لیکن انہوں نے تکیہ کی طرف توجہ نہیں دی ، انہوں نے اپنی عباء کو سمیٹا اور اس پر تشریف فرما ہو گئے ، انہوں نے فرمایا : آدمی کے لئے اتنا ہی کافی ہے جتنی جگہ پر وہ بیٹھ جائے ، پھر انہوں نے ایک گھڑی کے لئے اللہ کی حمد بیان کی ، پھر تکبیر کہی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا ، پھر انہوں نے دریافت کیا : تمہارے میاں کہاں ہیں ؟ انہوں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا: تھا ، میں نے کہا: وہ تو مسجد میں ہیں ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ان کے پاس چلے گئے ، پھر وہ دونوں صاحبان تشریف لائے ، اسی دوران راستے میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ایک درہم کا گوشت خرید لیا تھا ، جو ان کے ہاتھ میں لٹکا ہوا تھا ، انہوں نے کہا: اے ام درداء ! تم روٹی پکاؤ اور کھانا تیار کرو ، ہم نے ایسا ہی کیا ، پھر ہم سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا لے کے آئے ، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اور ام درداء کے ساتھ کھانا کھا لیں ، میں نے تو روزہ رکھا ہوا ہے ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کھانا اس وقت تک نہیں کھاؤں گا ، جب تک آپ نہیں کھائیں گے ، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اپنا روزہ ختم کر لیا اور ان کے ساتھ کھانا کھا لیا ۔ جب وہ گھڑی آئی ، جس میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نفل پڑھا کرتے تھے ، تو وہ اُٹھ کے نفل پڑھنے لگے ، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے انہیں بٹھا لیا ، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ مجھے پروردگار کی عبادت سے روک رہے ہیں ؟ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے ، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے انہیں روک دیا ، یہاں تک کہ جب صبح صادق کا وقت قریب آیا ، تو وہ دونوں اُٹھے ، انہوں نے کچھ رکعت ادا کیں ، پھر انہوں نے وتر ادا کیے ، پھر وہ صبح کی نماز کے لئے تشریف لے گئے ، پھر انہوں نے اپنے معاملے کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سلمان کی کیا بات ہے ؟ اس کی ماں اسے روئے ، اسے علم سے بھر دیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حسن بن جبلہ ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15841
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (7787)»