مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي السِّنَّوْرِ وَالْكَلْبِ . باب: بلی اور کتے کا حکم
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ أَمَرْتُ بِقَتْلِهَا ، فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ . وَمَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لِغَيْرِ صَيْدٍ وَلَا زَرْعٍ وَلَا غَنَمٍ أَوَى إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ إِحْدَاهُنَّ بِالْبَطْحَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ الْجَارُودِ عَنْ إِسْرَائِيلَ ، وَالْجَارُودُ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کتے ایک باقاعدہ قسم کی مخلوق نہ ہوتے ، تو میں اُنہیں مار دینے کا حکم دیتا ، البتہ تم اُن میں سے کالے سیاہ کتے کو مار دو ، جو شخص شکار کے علاوہ ، یا کھیت ، یا بکریوں کی حفاظت کے علاوہ ، کتا پالتا ہے ، تو روزانہ اُس کی طرف احد پہاڑ جتنا گناہ کا قیراط آ جاتا ہے اور جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈال دے ، تو آدمی اُسے سات مرتبہ دھوئے ، جن میں سے ایک مرتبہ مٹی کے ذریعے صاف کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” معجم اوسط “ میں ، جارود کے حوالے سے ، اسرائیل سے نقل کی ہے ، جارود نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ۔