حدیث نمبر: 1585
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْتِي دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِي دَارَنَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا " . قَالُوا : فَإِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " السِّنَّوْرُ سَبُعٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْوُضُوءُ بِفَضْلِهَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک محلے میں تشریف لائے ، جس سے پہلے ایک اور محلہ بھی تھا وہاں کے لوگوں کو یہ بات گراں گزری ، اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ فلاں محلے میں تشریف لائے ہیں ، اور ہمارے محلے میں تشریف نہیں لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے محلے میں کتا تھا ، لوگوں نے عرض کی : تو اُن کے محلے میں بلی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلی ، ایک درندہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب ہے اور وہ ضعیف ہے ، بلی کے بچائے ہوئے ( یعنی جوٹھے ) پانی کے ذریعے وضو کرنے سے متعلق حدیث پہلے گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1585
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف