مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ حَيِّ ، مَدِينَةِ أَصْبَهَانَ ، فَبَيْنَا أَنَا إِذْ أَلْقَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي قَلْبِي مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانْطَلَقْتُ إِلَى ، رَجُلً لَمْ يَكُنْ يُكَلِّمُ النَّاسَ يَتَحَرَّجُ ، فَسَأَلْتُهُ : أَيُّ الدِّينِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ : مَا لَكَ وَلِهَذَا الْحَدِيثِ ؟ أَتُرِيدُ دِينًا غَيْرَ دِينِكَ ؟ قُلْتُ : لَا وَلَكِنْ أُحِبُّ أَنْ أَعْلَمَ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ؟ وَأَيَّ دِينٍ أَفْضَلُ ؟ . قَالَ : مَا أَعْلَمُ عَلَى هَذَا غَيْرَ رَاهِبٍ بِالْمَوْصِلِ . ¤ قَالَ : فَذَهَبْتُ إِلَيْهِ فَسَكَنْتُ عِنْدَهُ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ قُتِّرَ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا ، فَكَانَ يَصُومُ النَّهَارِ وَيَقُومُ اللَّيْلِ ، فَكُنْتُ أَعْبُدُ كَعِبَادَتِهِ ، فَلَبِثْتُ عِنْدَهُ ثَلَاثَ سِنِينَ ، ثُمَّ تُوُفِّيَ فَقُلْتُ : إِلَى مَنْ تُوصِي بِي ؟ فَقَالَ : مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْمَشْرِقِ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ ، فَعَلَيْكَ بِرَاهِبٍ مِنْ وَرَاءِ الْجَزِيرَةِ ، فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ . قَالَ : فَجِئْتُهُ فَأَقْرَأْتُهُ السَّلَامَ ، وَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ قَدْ تُوُفِّيَ ، فَمَكَثْتُ عِنْدَهُ أَيْضًا ثَلَاثَ سِنِينَ ثُمَّ تُوُفِّيَ ، فَقُلْتُ : إِلَى مَنْ تَأْمُرُنِي أَنْ أَذْهَبَ ؟ قَالَ : مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ غَيْرَ رَاهِبٍ بِعَمُورِيَّةَ شَيْخٍ كَبِيرٍ ، وَمَا أَدْرِي تَلْحَقُهُ أَمْ لَا ؟ فَذَهَبْتُ إِلَيْهِ فَكُنْتُ عِنْدَهُ ، فَإِذَا رَجُلٌ مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قُلْتُ لَهُ : أَيْنَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَذْهَبَ ؟ قَالَ : مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ ، وَلَكِنْ إِنْ أَدْرَكْتَ زَمَانًا تَسْمَعُ بِرَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِ إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا أَرَاكَ تُدْرِكُهُ وَقَدْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ أَدْرَكَنِي إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مَعَهُ فَافْعَلْ ; فَإِنَّهُ الدِّينُ ، وَأَمَارَةُ ذَلِكَ : أَنَّ قَوْمُهُ يَقُولُونَ : سَاحِرٌ مَجْنُونٌ كَاهِنٌ ، وَإِنَّهُ يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ وَلَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ، وَإِنَّ عِنْدَ غُضْرُوفِ كَتِفِهِ خَاتَمَ النُّبُوَّةِ . فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ أَتَى رَكْبٌ مِنْ نَحْوِ الْمَدِينَةِ ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتُمْ ؟ فَقَالُوا : نَحْنُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، وَنَحْنُ قَوْمٌ تُجَّارٌ نَعِيشُ بِتِجَارَتِنَا ، وَلَكِنَّهُ قَدْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمَ عَلَيْنَا وَقَوْمُهُ يُقَاتِلُونَهُ ، وَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَحُولَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ تِجَارَتِنَا ، وَلَكِنَّهُ قَدْ مَلَكَ الْمَدِينَةَ . فَقُلْتُ : مَا يَقُولُونَ فِيهِ ؟ قَالَ : يَقُولُونَ : سَاحِرٌ ، مَجْنُونٌ ، كَاهِنٌ ، فَقُلْتُ : هَذِهِ الْأَمَارَةُ ، دُلُّونِي عَلَى صَاحِبِكُمْ . فَجِئْتُهُ فَقُلْتُ : تَحْمِلُنِي إِلَى الْمَدِينَةِ ؟ فَقَالَ : مَا تُعْطِينِي ؟ فَقُلْتُ : مَا أَجِدُ شَيْئًا أُعْطِيكَ غَيْرَ أَنِّي لَكَ عَبْدٌ ، فَحَمَلَنِي ، فَلَمَّا قَدِمْتُ جَعَلَنِي فِي نَخْلِهِ ، فَكُنْتُ أَسْقِي كَمَا يَسْقِي الْبَعِيرُ ، حَتَّى دَبِرَ ظَهْرِي وَصَدْرِي مِنْ ذَلِكَ ، وَلَا أَجِدُ أَحَدًا يَفْقَهُ كَلَامِي ، حَتَّى جَاءَتْ عَجُوزٌ فَارِسِيَّةٌ تَسْتَقِي فَكَلَّمْتُهَا فَفَقُهَتْ كَلَامِي ، فَقُلْتُ لَهَا : أَيْنَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي خَرَجَ ؟ دُلِّينِي عَلَيْهِ . قَالَتْ : سَيَمُرُّ عَلَيْكَ بُكْرَةً إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ، فَخَرَجْتُ فَجَمَعْتُ تَمْرًا ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ جِئْتُ ، ثُمَّ قَرَّبْتُ إِلَيْهِ التَّمْرَ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا أَصَدَقَةٌ أَمْ هَدِيَّةٌ ؟ " . فَأَشَرْتُ أَنَّهُ صَدَقَةٌ ، فَقَالَ : " انْطَلِقْ إِلَى هَؤُلَاءِ " . وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ ، فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ ، فَقُلْتُ : هَذِهِ الْأَمَارَةُ . ¤ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ جِئْتُ بِتَمْرٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . فَقُلْتُ : هَذِهِ هَدِيَّةٌ ، فَأَكَلَ وَدَعَا أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا ، ثُمَّ رَآنِي أَتَعَرَّضُ لِأَرَى الْخَاتَمَ ، فَعَرَفَ فَأَلْقَى رِدَاءَهُ فَأَخَذْتُ أُقَبِّلُهُ وَأَلْتَزِمُهُ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكَ ؟ " . فَسَأَلَنِي ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي فَقَالَ : " اشْتَرَطْتَ لَهُمْ أَنَّكَ عَبْدٌ ، فَاشْتَرِ نَفْسَكَ مِنْهُمْ " . فَاشْتَرَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَنْ يُحْيِيَ لَهُمْ ثَلَاثَ مِائَةِ نَخْلَةٍ وَأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةِ ذَهَبٍ ، ثُمَّ هُوَ حُرٌّ . قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اغْرِسْ " . فَغَرَسَ " ثُمَّ انْطَلِقْ فَأَلْقِ الدَّلْوَ عَلَى الْبِئْرِ ، ثُمَّ لَا تَرْفَعُهُ حَتَّى يَرْتَفِعَ ; فَإِنَّهُ إِذَا امْتَلَأَ ارْتَفَعَ ، ثُمَّ رُشَّ فِي أُصُولِهَا " . فَفَعَلَ ، فَنَبَتَ النَّخْلُ أَسْرَعَ النَّبَاتِ ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! مَا رَأَيْنَا مِثْلَ هَذَا الْعَبْدِ ، إِنَّ لِهَذَا الْعَبْدِ لَشَأْنًا ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ ، وَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِبْرًا ، فَإِذَا فِيهِ أَرْبَعُونَ أُوقِيَّةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ” جی “ کا رہنے والا ایک فرد تھا ، جو ” اصبہان “ کے علاقے میں تھا ، ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ میں ایک شخص کے پاس گیا ، جو لوگوں سے کم ملتا جلتا تھا ، میں نے اس سے سوال کیا : کون سا دین زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ اس نے کہا: تمہارا اس بات کے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ کیا تم اپنے دین کے علاوہ کوئی اور دین حاصل کرنا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا: جی نہیں ! لیکن میں یہ بات جاننا چاہتا ہوں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے اور کون سا دین زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ اس نے کہا: اس بات کا علم صرف ایک راہب کو ہے ، جو موصل میں ہے ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس کے پاس چلا گیا ، اس کے پاس مقیم رہا وہ ایک ایسا شخص تھا ، جو دنیا سے لاتعلق تھا ، وہ دن کے وقت روزہ رکھتا تھا اور رات کے وقت عبادت میں کھڑا رہتا تھا ، میں بھی اس کی عبادت کی طرح عبادت کرنے لگا ، میں تین سال اس کے پاس رہا ، پھر اس کا انتقال ہونے لگا تو میں نے کہا: تم مجھے کس کے پاس جانے کی وصیت کرتے ہو ؟ اس نے کہا: اہل مشرق میں مجھے ایسے کسی فرد کا علم نہیں ہے جو اس دین پر گامزن ہو ، جس پر میں ہوں ، تم پر ایک راہب کے پاس جانا لازم ہے ، جو جزیرہ کے پار ہے ، تم اسے میرا سلام پہنچا دینا ۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اُس کے پاس آیا ، میں نے اسے سلام پہنچایا اور اسے یہ بتایا کہ وہ فرد فوت ہو گیا ہے ، پھر میں اس دوسرے راہب کے پاس تین سال رہا ، پھر اس کا انتقال ہونے لگا ، تو میں نے کہا: تم مجھے کس کے پاس جانے کی ہدایت کرتے ہو ؟ اس نے کہا: اہل زمین میں مجھے ایسے کسی فرد کا علم نہیں ہے جو اس دین پر گامزن ہو جس پر میں ہوں ، صرف ایک راہب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ عموریہ میں ہے ، اور وہ ایک بوڑھا شخص ہے ، مجھے نہیں اندازہ کہ تم اس تک پہنچ پاؤ گے یا نہیں ؟ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس کے پاس گیا ، میں اس کے پاس رہا ، وہ ایک ایسا شخص تھا ، جس کے پاس بہت سی سہولیات تھیں ، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا ، تو میں نے اس سے کہا: تم مجھے کہاں جانے کی ہدایت کرتے ہو ؟ اس نے کہا: مجھے اہل زمین میں سے کسی فرد کا علم نہیں ہے ، جو اس دین پر گامزن ہو جس پر میں ہوں ، لیکن تم اگر کوئی ایسا زمانہ پاؤ ، جس میں تم کسی ایسے فرد کے بارے میں سنو ، جن کا ظہور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بنائے ہوئے گھر کے پاس ہوا ہے ، تو تمہارے بارے میں میرا خیال ہے کہ تم ان تک پہنچ جاؤ گے اور مجھے یہ توقع تھی کہ اگر مجھے ان کا زمانہ مل جاتا تو میں بھی ان کے پاس چلا جاتا ، تو اگر تم سے ایسا ہو سکے کہ تم ان کے پاس چلے جاؤ ، تو تم ایسا کر لینا کیونکہ وہی صحیح دین ہو گا ، ان کی مخصوص نشانی یہ ہے کہ ان کی قوم کے لوگ یہ کہیں گے : یہ ساحر ہیں ، یہ مجنون ہیں ، یہ کاہن ہیں ، وہ ہدیہ کھا لیں گے لیکن وہ صدقہ نہیں کھائیں گے ، اور ان کے کندھے کے پاس مہر نبوت ہو گی ۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ابھی وہاں موجود تھا کہ اسی دوران مدینہ منورہ کی طرف کچھ سوار وہاں آئے ، میں نے ان سے دریافت کیا : تم لوگ کہاں سے تعلق رکھتے ہو ؟ انہوں نے بتایا : ہم اہل مدینہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ہم تاجر پیشہ لوگ ہیں اور تجارت کے ذریعے اپنا ذریعہ معاش اختیار کرتے ہیں ، لیکن سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بنائے ہوئے گھر کے پاس موجود افراد میں سے ، ایک صاحب کا ظہور ہوا ہے ، وہ ہمارے پاس آئے ہیں ، ان کی قوم ان کے ساتھ لڑائیاں کر رہی ہے ، ہمیں اندیشہ ہے کہ شاید وہ ہماری تجارت میں رکاوٹ بن جائیں گے ، لیکن اب وہ مدینہ کے بادشاہ بن گئے ہیں ، میں نے دریافت کیا : لوگ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے بتایا لوگ یہ کہتے ہیں : یہ ساحر ہیں ، یہ مجنون ہیں ، یہ کاہن ہیں ، میں نے سوچا یہ ایک نشانی ہو گئی ۔ میں نے کہا: کیا تم میری اپنے متعلقہ فرد کی طرف رہنمائی کرو گے ؟ تاکہ میں ان کے پاس جاؤں ، پھر میں نے کہا: تم مجھے مدینہ منورہ سوار کروا کے لے جاؤ گے ؟ اس نے دریافت کیا : تم مجھے کیا دو گے ؟ میں نے کہا: میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ، البتہ یہ ہے کہ میں تمہارا غلام بن جاؤں گا ، اس نے مجھے سوار کروا لیا ، جب میں مدینہ منورہ آیا ، تو اس نے مجھے کھجوروں کے باغ میں کام کرنے کے لئے لگا دیا ، میں اس طرح پانی لے کر آتا تھا ، جس طرح اونٹ پانی لے کر آتا ہے ، یہاں تک کہ اس کی وجہ سے میری پشت اور سینے کی جلد خراب ہو گئی ، وہاں مجھے کوئی ایسا فرد نہیں ملتا تھا ، جو میرے کلام کو سمجھ سکے ، یہاں تک کہ ایک بوڑھی فارسی عورت آئی ، وہ پانی لینے کے لئے آئی تھی ، میں نے اس کے ساتھ بات چیت کی ، تو اسے میرا کلام سمجھ آ گیا ۔ میں نے اس سے دریافت کیا : وہ صاحب کہاں ہیں ؟ جن کا ظہور ہوا ہے ، تم ان کے بارے میں میری رہنمائی کرو گی ؟ اس عورت نے جواب دیا : وہ صبح کے وقت تمہارے پاس سے گزریں گے ، جب وہ دن کے ابتدائی حصے میں صبح کی نماز ادا کر لیتے ہیں ، میں وہاں سے نکلا میں نے کھجوریں اکٹھی کیں ، جب صبح ہوئی تو میں آیا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں پیش کیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ کیا یہ صدقہ ہے یا ہدیہ ہے ؟ تو میں نے یہ اشارہ کیا کہ یہ صدقہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ انہیں ان لوگوں کے پاس لے جاؤ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت آپ کے اصحاب موجود تھے ، ان لوگوں نے اسے کھا لیا ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کھایا ، میں نے سوچا یہ ایک نشانی ہو گئی ۔ اگلے دن میں کھجوریں لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یہ ہدیہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا ، آپ نے اپنے اصحاب کو دعوت دی ، انہوں نے بھی اسے کھایا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ کیا کہ میں مہر نبوت دیکھنا چاہتا ہوں ، آپ کو اندازہ ہو گیا ، تو آپ نے اپنی چادر ہٹائی ، تو میں نے مہر نبوت کو بوسہ دیا اور آپ کو ساتھ چمٹا لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ آپ نے مجھ سے سوال کیا ، تو میں نے آپ کو پوری صورت حال کے بارے میں بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے ان کے ساتھ یہ شرط طے کی تھی کہ تم ان کے غلام بن جاؤ گے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کو اس شرط پر خرید لیا کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو کھجوروں کے تین سو درخت لگا کر دیں گے اور چالیس اوقیہ سونا دیں گے ، پھر وہ آزاد شمار ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم درخت لگاؤ ، انہوں نے درخت لگائے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور کنویں میں ڈول ڈالو ! پھر تم اُسے اٹھانا نہیں ، یہاں تک کہ وہ خود اوپر آ جائے گا ، جب وہ ڈول بھر جاتا تو خود اوپر آ جاتا ، پھر کھجوروں کے درختوں کو پانی دے دیا جاتا ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ ایسا ہی کرتے رہے ، تو کھجوروں کے درخت بہت تیزی سے آگ گئے ، تو انہوں نے کہا: سبحان اللہ ! ہم نے اس غلام جیسا فرد نہیں دیکھا ، اس غلام کی شان ہے ، پھر لوگ ان کے پاس اکٹھے ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے کا ٹکڑا دیا ، جو چالیس اوقیہ کا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔