مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ جَيٍّ ، وَكَانَ أَهْلُ قَرْيَتِي يَعْبُدُونَ الْخَيْلَ الْبُلْقِ ، وَكُنْتُ أَعْرِفُ أَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ ، فَقِيلَ لِي : إِنَّ الدِّينَ الَّذِي تَطْلُبُ إِنَّمَا هُوَ بِالْمَغْرِبِ ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَوْصِلَ ، فَسَأَلْتُ عَنْ أَفْضَلِ رَجُلٍ فِيهَا فَدُلِلْتُ عَلَى رَجُلٍ فِي صَوْمَعَةٍ ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ جَيٍّ ، وَإِنِّي جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ ، وَأَتَعَلَّمُ مِنْكَ فَضُمَّنِي إِلَيْكَ أَخْدُمَكَ وَأَصْحَبَكَ ، وَتُعَلِّمُنِي شَيْئًا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ . قَالَ : نَعَمْ ، فَصَحِبْتُهُ فَأَجْرَى عَلَيَّ مِثْلَ مَا يَجْرِي عَلَيْهِ مِنَ الْخَلِّ وَالزَّيْتِ وَالْحُبُوبِ ، فَلَمْ أَزَلْ مَعَهُ حَتَّى نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ ، فَجَلَسْتُ عِنْدَ رَأْسِهِ أَبْكِيهِ ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكَ ؟ فَقُلْتُ : وَاللَّهِ يُبْكِينِي أَنِّي خَرَجْتُ مِنْ بِلَادِي أَطْلُبُ الْعِلْمَ فَرَزَقَنِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - صُحْبَتَكَ ، فَعَلَّمْتَنِي وَأَحْسَنْتَ صُحْبَتِي ، فَنَزَلَ بِكَ الْمَوْتُ فَلَا أَدْرِي أَيْنَ أَذْهَبُ ؟ قَالَ : لِي أَخٌ بِالْجَزِيرَةِ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، وَهُوَ عَلَى الْحَقِّ ، فَأْتِهِ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ ، وَأَخْبِرْهُ أَنِّي أَوْصَيْتُ بِكَ إِلَيْهِ ، وَأُوصِيكَ بِصُحْبَتِهِ . قَالَ : فَلَمَّا أَنْ قُبِضَ الرَّجُلُ ، خَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الرَّجُلَ الَّذِي وَصَفَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالْخَبَرِ ، وَأَقْرَأْتُهُ السَّلَامَ مِنْ صَاحِبِهِ ، وَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ هَلَكَ ، وَأَمَرَنِي بِصُحْبَتِهِ ، فَضَمَّنِي إِلَيْهِ وَأَجْرَى عَلَيَّ كَمَا كَانَ يُجْرِي عَلَيَّ مِنَ الْأَجْرِ ، فَصَحِبْتُهُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَنَزَلَ بِهِ الْمَوْتَ ، فَلَمَّا أَنْ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ جَلَسْتُ عِنْدَ رَأْسِهِ أَبْكِي ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكَ ؟ قُلْتُ : خَرَجْتُ مِنْ بِلَادِي أَطْلُبُ الْخَيْرَ ، فَرَزَقَنِي اللَّهُ صُحْبَةَ فُلَانٍ فَأَحْسَنَ صُحْبَتِي وَعَلَّمَنِي ، فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ أَوْصَى بِي إِلَيْكَ ، فَضَمَمْتَنِي فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتِي وَعَلَّمْتَنِي ، وَقَدْ نَزَلَ بِكَ الْمَوْتُ فَلَا أَدْرِي أَيْنَ أَتَوَجَّهُ ؟ قَالَ : إِنَّ خَالِي عَلَى قُرْبِ الرُّومِيِّ ، فَهُوَ عَلَى الْحَقِّ ، فَأْتِهِ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ وَاصْحَبْهُ ; فَإِنَّهُ عَلَى الْحَقِّ ، فَلَمَّا قُبِضَ الرَّجُلُ خَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِي وَبِوَصِيَّةِ الْآخَرِ قَبْلَهُ قَالَ : فَضَمَّنِي إِلَيْهِ وَأَجْرَى عَلَيَّ كَمَا كَانَ يُجْرِي عَلَيَّ ، فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ جَلَسْتُ أَبْكِي عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكَ ؟ فَقَصَصْتُ قِصَّتِي ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ اللَّهَ رَزَقَنِي صُحْبَتَكَ ، فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتِي ، وَقَدْ نَزَلَ بِكَ الْمَوْتُ وَلَا أَدْرِي أَيْنَ أَتَوَجَّهُ ؟ قَالَ : مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُهُ عَلَى دِينِ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فِي الْأَرْضِ ، وَلَكِنَّ هَذَا أَوَانٌ يَخْرُجُ فِيهِ نَبِيٌّ أَوْ قَدْ خَرَجَ بِتِهَامَةَ ، فَأْتِ عَلَى الطَّرِيقِ لَا يَمُرُّ بِكَ أَحَدٌ إِلَّا سَأَلْتَهُ عَنْهُ ، فَإِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ خَرَجَ فَأْتِهِ ; فَإِنَّهُ النَّبِيُّ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمَ النُّبُوَّةِ ، وَأَنَّهُ يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ ، وَلَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ . ¤ قَالَ : وَكَانَ لَا يَمُرُّ بِي أَحَدٌ إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَمَرَّ بِي نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَسَأَلْتُهُمْ ، فَقَالُوا : نَعَمْ قَدْ ظَهَرَ فِينَا رَجُلٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ، فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ : هَلْ لَكَمَ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا لِبَعْضِكُمْ عَلَى أَنْ تَحْمِلُونِي عَقِبَةً ، وَتُطْعِمُونِي مِنَ الْخُبْزِ كِسَرًا ؟ فَإِذَا بَلَغْتُمْ إِلَى بِلَادِكُمْ ; فَإِنْ شَاءَ أَنْ يَبِيعَ بَاعَ ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَسْتَعْبِدَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : أَنَا ، فَصِرْتُ عَبْدًا لَهُ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، فَجَعَلَنِي فِي بُسْتَانٍ لَهُ مَعَ حُبْشَانٍ كَانُوا فِيهِ ، فَخَرَجْتُ وَسَأَلْتُ ، فَلَقِيتُ امْرَأَةً مِنْ بِلَادِي ، فَسَأَلْتُهَا فَإِذَا أَهْلُ بَيْتِهَا قَدْ أَسْلَمُوا ، وَقَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْلِسُ فِي الْحِجْرِ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ، إِذْ صَاحَ عُصْفُورٌ بِمَكَّةَ ، حَتَّى إِذَا أَضَاءَ لَهُمُ الْفَجْرُ تَفَرَّقُوا . فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْبُسْتَانِ ، فَكُنْتُ أَخْتَلِفُ لَيْلَتِي ، فَقَالَ لِي الْحُبْشَانُ : مَا لَكَ ؟ قُلْتُ : أَشْتَكِي بَطْنِي ، فَقَالَ : وَإِنَّمَا صَنَعْتَ ذَلِكَ لِئَلَّا يَفْقِدُونِي إِذَا ذَهَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قَالَ : فَلَمَّا كَانَتِ السَّاعَةُ الَّتِي أَخْبَرَتْنِي الْمَرْأَةُ الَّتِي يَجْلِسُ فِيهَا هُوَ وَأَصْحَابُهُ ، خَرَجْتُ أَمْشِي حَتَّى رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ مُحْتَبٍ وَأَصْحَابُهُ حَوْلَهُ ، فَأَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَعَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي أُرِيدُ ، فَأَرْسَلَ حَبْوَتَهُ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ، فَقُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ هَذِهِ وَاحِدَةٌ ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الْمُقْبِلَةُ لَقَطْتُ تَمْرًا جَيِّدًا ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . قُلْتُ : هَدِيَّةٌ ، فَأَكَلَ مِنْهَا وَقَالَ لِلْقَوْمِ : " كُلُوا " . قَالَ : قُلْتُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَسَأَلَنِي عَنْ أَمْرِي فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ : " اذْهَبْ فَاشْتَرِ نَفْسَكَ " . فَانْطَلَقْتُ إِلَى صَاحِبَيْ فَقُلْتُ : يَعْنِي نَفْسِي ، فَقَالَ : نَعَمْ عَلَى أَنْ تُنْبِتَ لِي مِائَةَ نَخْلَةٍ ، فَإِذَا أَنْبَتَّ جِئْتَنِي بِوَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ . فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اشْتَرِ نَفْسَكَ بِالَّذِي سَأَلَكَ ، وَائْتِنِي بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ الْبِئْرِ الَّتِي كُنْتَ تَسْقِي مِنْهَا ذَلِكَ النَّخْلَ " . قَالَ : فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ سَقَيْتُهَا ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ غَرَسْتُ مِائَةَ نَخْلَةٍ فَمَا مِنْهَا نَخْلَةٌ إِلَّا نَبَتَتْ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ : أَنَّ النَّخْلَ قَدْ نَبَتَ ، فَأَعْطَانِي قِطْعَةً مِنْ ذَهَبٍ ، فَانْطَلَقْتُ بِهَا فَوَضَعْتُهَا فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ ، وَوَضَعَ فِي الْجَانِبِ الْآخَرِ نَوَاةً ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا اسْتَقَلَّتْ الْقِطْعَةُ مِنَ الذَّهَبِ مِنَ الْأَرْضِ قَالَ : وَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ ، فَأَعْتَقَنِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ التَّمِيمِيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : رُبَّمَا أُغْرِبَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ” جی“ کے رہنے والے افراد میں سے ایک فرد تھا ، اور میرے رشتے دار گھوڑے کی عبادت کرتے تھے ، میں یہ بات جانتا تھا کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، مجھ سے کہا: گیا کہ تم جس دین کی تلاش میں ہو وہ مغرب میں ہے ، میں وہاں سے نکلا اور میں موصل آ گیا ، میں نے وہاں موجود سب سے زیادہ فضیلت والے شخص کے بارے میں دریافت کیا تو میری رہنمائی ایک شخص کی طرف کی گئی جو ایک گرجے میں رہتا تھا ، میں اس کے پاس آیا ، میں نے اسے بتایا کہ میں ” جی “ کا رہنے والا ایک فرد ہوں اور میں علم کے حصول کے لئے آیا ہوں ، تاکہ تم سے علم حاصل کروں ، تو تم مجھے اپنے ساتھ ملا لو ! میں تمہاری خدمت بھی کروں گا اور تمہارے ساتھ بھی رہوں گا ، اور تم مجھے اس چیز کی تعلیم دینا ، جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں علم عطا کیا ہے ، اس نے کہا: ٹھیک ہے ! میں اس کے ساتھ رہا ، جس طرح وہ خود سرکہ اور زیتون کا تیل اور دانے استعمال کرتا تھا ، اسی طرح وہ مجھے بھی دیتا تھا ، میں مسلسل اس کے ساتھ رہا ، یہاں تک کہ اس کی موت کا وقت قریب آ گیا ، تو میں اس کے سرہانے بیٹھ کر رونے لگا ، اس نے دریافت کیا : تم کیوں رور ہے ہو ؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ بات مجھے رلا رہی ہے کہ میں اپنے علاقے سے علم کے حصول کے لئے نکلا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارا ساتھ نصیب کیا ، تم نے مجھے تعلیم دی اور میرے ساتھ اچھا سلوک کیا ، اب تمہیں موت آنے لگی ہے ، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کہاں جاؤں گا ؟ اس نے کہا: جزیرہ میں فلاں فلاں جگہ پر میرا ایک بھائی ہے ، وہ بھی حق پر ہے ، تم اس کے پاس جاؤ اور تم اسے میری طرف سے سلام کہنا اور اسے یہ بتانا کہ میں نے تمہیں یہ تلقین کی تھی کہ تم اس کے پاس جاؤ اور میں نے تمہیں یہ تلقین کی تھی کہ تم اس کے ساتھ رہنا ۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب اس شخص کا انتقال ہو گیا تو میں وہاں سے نکلا ، یہاں تک کہ اس شخص کے پاس آیا جس کی صفت اس نے میرے سامنے بیان کی تھی ، میں نے اسے اس صورت حال کے بارے میں بتایا اور اس کے ساتھی کا سلام اسے پہنچایا اور اسے یہ بتایا کہ اس کا انتقال ہو چکا ہے اور اس نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں تمہارے ساتھ رہوں ، تو اس دوسرے فرد نے بھی مجھے اپنے ساتھ ملا لیا اور اس نے بھی مجھے اس طرح کی نعمتیں دیں جس طرح کی پہلا فرد دیا کرتا تھا ، جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، اتنا عرصہ میں اس کے ساتھ رہا ، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا ، تو میں اس کے سرہانے بیٹھ کر رونے لگا ، اس نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے کہا: میں اپنے علاقے سے بھلائی کی طلب میں نکلا تھا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے فلاں شخص کا ساتھ نصیب کیا ، اس نے میرے ساتھ اچھا سلوک کیا اور مجھے تعلیم دی ، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے مجھے تمہارے پاس آنے کی تلقین کی ، تم نے مجھے ساتھ ملا لیا اور تمہارا ساتھ بھی بہت اچھا رہا ، تم نے مجھے تعلیم دی ، اب تمہیں موت آنے لگی ہے تو مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کہاں جاؤں ؟ اس نے بتایا : میرا ایک ماموں روم کے قریب رہتا ہے ، وہ حق پر ہے ، تم اس کے پاس جاؤ ! تم اسے میری طرف سے سلام کہنا اور اس کے ساتھ رہنا کیونکہ وہ حق پر ہے ۔ جب اس شخص کا انتقال ہو گیا تو میں وہاں سے نکلا اور اس فرد کے پاس آیا ، میں نے اسے اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا اور دوسرے فرد کی وصیت کے بارے میں بتایا ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو اس نے مجھے اپنے ساتھ ملا لیا اور مجھے بھی وہ سہولیات فراہم کیں ، جو اسے ملتی تھیں ، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو میں اس کے سرہانے بیٹھ کر رونے لگا ، اس نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے اسے اپنا واقعہ سنایا ، میں نے اسے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارا ساتھ عطا کیا تھا ، تم میرے ساتھ اچھے طریقے سے رہے ، اب تمہیں موت آنے لگی ہے ، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کہاں جاؤں ؟ اس نے کہا: اب میرے علم میں کوئی ایسا فرد باقی نہیں رہا جو روئے زمین پر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دین پر گامزن ہو ، البتہ یہ ایک ایسا وقت ہے جس میں ایک نبی کے ظہور کا وقت قریب آ چکا ہے ، یا تہامہ کے علاقے میں اُن کا ظہور ہو چکا ہو گا ، تم راستے پر چلے جاؤ ، جو بھی شخص تمہارے پاس سے گزرے تم ان کے بارے میں اُس سے دریافت کرنا ، جب تمہیں یہ اطلاع ملے کہ ان کا ظہور ہو چکا ہے ، تو تم ان کے پاس چلے جانا ، کیونکہ وہ ایک ایسے نبی ہیں ، جن کے بارے میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے خوشخبری دی تھی ، اُن کی مخصوص نشانی یہ ہو گی کہ ان کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت ہو گی ، وہ تحفہ کھا لیتے ہوں گے ، لیکن صدقہ نہیں کھاتے ہوں گے ۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے پاس سے جو بھی شخص گزرتا تھا ، میں اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کرتا تھا ، ایک مرتبہ مکہ کے کچھ لوگ میرے پاس سے گزرے ، میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا : جی ہاں ہمارے درمیان ایک صاحب کا ظہور ہوا ہے ، جن کا یہ کہنا ہے کہ وہ نبی ہیں ، میں نے ان میں سے کچھ لوگوں سے کہا: کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ میں تم میں سے کسی کا غلام بن جاتا ہوں ، اس شرط پر کہ تم مجھے اپنے پیچھے سواری پر سوار کر لینا اور تم مجھے کھانے کے لئے روٹی کا ایک ٹکڑا دے دیا کرنا ، پھر جب تم اپنے علاقے میں پہنچ جاؤ گے تو اگر وہ شخص فروخت کرنا چاہے تو فروخت کر دے اور اگر اپنا غلام رکھنا چاہے تو اپنا غلام رکھے ، ان میں سے ایک شخص نے کہا: میں ایسا کرنے کے لئے تیار ہوں ، تو میں اس کا غلام بن گیا ، یہاں تک کہ وہ شخص مکہ آ گیا ، اس نے دیگر حبشی غلاموں کے ساتھ مجھے اپنے ایک باغ میں کام کرنے کے لئے مقرر کر دیا ، میں باہر نکلتا تھا اور سوال کرتا تھا ، میری ملاقات ایک خاتون سے ہوئی جو میرے علاقے ( یعنی فارس ) کی رہنے والی تھی ، میں نے اس خاتون سے سوال کیا ، تو اس کے گھر والے مسلمان ہو چکے تھے ، اس خاتون نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب حطیم میں بیٹھے ہوتے ہیں ، اُس وقت جب مکہ میں چڑیا چیختی ہے ، یہاں تک کہ جب صبح روشن ہو جاتی ہے ، تو وہ بکھر جاتے ہیں ، میں باغ میں گیا ، میں رات کے وقت آتا جاتا رہا ، حبشیوں نے مجھ سے دریافت کیا : تمہارا کیا مسئلہ ہے ؟ میں نے کہا: میرا پیٹ ٹھیک نہیں ہے ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ایسا اس لئے کیا تاکہ جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں تو وہ میری غیر موجودگی محسوس نہ کریں ۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب وہ وقت آیا ، جس کے بارے میں مجھے خاتون نے بتایا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اُس وقت میں تشریف فرما ہوتے ہیں ، تو میں نکلا ، یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ احتباء کے طور پر تشریف فرما تھے ، اور آپ کے اصحاب آپ کے اردگرد موجود تھے ، میں پیچھے کی طرف سے آپ کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ارادے کا اندازہ ہو گیا ، آپ نے حبوہ کے طور پر بیٹھنے کے انداز کو ختم کیا ، اور میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان موجود مہر نبوت کو دیکھ لیا ، تو میں نے عرض کی : اللہ اکبر ! یہ ایک نشانی ہو گئی ، پھر میں واپس آ گیا ، جب اگلی رات آئی ، تو میں نے عمدہ قسم کی کھجوریں چن لیں ، اور انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، وہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے رکھ دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یہ تحفہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کھایا ، آپ نے حاضرین سے فرمایا : تم بھی کھاؤ ! میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں ( شاید یہاں متن پورا نہیں ہے ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے میری صورت حال کے بارے میں دریافت کیا ، تو میں نے آپ کو بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور اپنی ذات کا سودا کر لو ! میں اپنے مالک کے پاس گیا ۔ میں نے کہا: میں اپنا سودا کرنا چاہتا ہوں ، اس نے کہا: ٹھیک ہے ، تم مجھے ایک سو کھجوروں کے درخت لگا دو ! جب وہ آگ جائیں گے ، تو تم ایک گٹھلی کے وزن جتنا سونا لے کر میرے پاس آ جانا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے تم سے جو مطالبہ کیا ہے ، تم اس کی بنیاد پر تم اپنی ذات کا سودا کر لو ، تم میرے پاس اس کنویں کے پانی کا ایک ڈول لے کر آنا ، جس کے ذریعے تم ان کھجوروں کے باغ کو پانی دیتے ہو ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے دعا کی ، پھر میں نے ان کھجوروں کو پانی لگایا ، اللہ کی قسم ! کھجوروں کے ایک سو درخت اگ گئے ، اُن میں سے ہر ایک درخت اُگ گیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو بتایا کہ کھجوروں کے درخت اُگ گئے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کا ایک ٹکڑا دیا ، میں اُسے لے کر گیا ، میں نے اسے میزان کے ایک پلڑے میں رکھا اور دوسرے پر پلڑے میں ایک گٹھلی رکھی ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! سونے والا پلڑا زمین سے بلند نہیں ہوا ( یعنی وہ مسلسل بھاری رہا ) ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آزاد قرار دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالقدوس تمیمی ہے ، جسے امام أحمد اور جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ بعض اوقات غریب روایات نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔