حدیث نمبر: 15836
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : جَاءَ سَلْمَانُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ بِمَائِدَةٍ عَلَيْهَا رُطَبٌ ، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا هَذَا يَا سَلْمَانُ ؟ " . قَالَ : صَدَقَةٌ عَلَيْكَ وَعَلَى أَصْحَابِكَ قَالَ : " ارْفَعْهَا ; فَإِنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ " . فَرَفَعَهَا ، وَجَاءَهُ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِهِ ، فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ يَحْمِلُهُ فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا سَلْمَانُ ؟ " . قَالَ : " " فَقَالَ : هَذِهِ هَدِيَّةٌ لَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " انْشِطُوا " . قَالَ : فَنَظَرَ إِلَى الْخَاتَمِ الَّذِي عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَآمَنَ بِهِ ، وَكَانَ لِلْيَهُودِ فَاشْتَرَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَذَا وَكَذَا دِرْهَمًا ، وَعَلَى أَنْ يَغْرِسَ نَخْلًا يَعْمَلُ فِيهَا سَلْمَانُ حَتَّى تُطْعِمَ قَالَ : فَغَرَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّخْلَ إِلَّا نَخْلَةً وَاحِدَةً غَرَسَهَا عُمَرُ ، فَحَمَلَتِ النَّخْلُ مِنْ عَامِهَا وَلَمْ تَحْمَلِ النَّخْلَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ غَرَسَ هَذِهِ ؟ " . قَالَ عُمَرُ : أَنَا غَرَسْتُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ غَرَسَهَا ، فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ ایک دسترخوان لے کر آئے ، جس میں کھجوریں موجود تھیں ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے سلمان ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یہ آپ کے لئے اور آپ کے ساتھیوں کے لئے صدقہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اٹھا لو ! کیونکہ ہم صدقہ نہیں کھاتے ہیں ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے اسے اٹھا لیا ، پھر وہ اگلے دن اسی طرح کی چیزیں لے کر آئے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ اے سلمان ! سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یہ آپ کے لئے تحفہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ ہاتھ بڑھاؤ ! راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت کی طرف دیکھا ، جو آپ کی پشت پر موجود تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے ۔ وہ یہودیوں کی ملکیت میں تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اتنے اتنے درہم کے عوض میں خرید لیا اور اس شرط پر خریدا کہ وہ کھجوروں کے درخت لگائیں گے اور اس باغ میں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ اس وقت تک کام کرتے رہیں گے ، جب تک اس درخت کا پھل کھانے کے قابل نہیں ہو جاتا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کھجوروں کے درخت لگائے ، صرف ایک پودے کا معاملہ مختلف تھا ، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لگایا تھا ، تو اُس سال ان تمام درختوں میں پیداوار آ گئی تھی ، صرف ایک درخت میں نہیں آئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کس نے لگایا تھا ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے لگایا تھا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے نکالا ، پھر آپ نے اسے لگایا ، تو اس سال اس پر بھی پھل لگ گیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15836
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2726) اخرجه احمد فى المسند (354/5)»