حدیث نمبر: 15835
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : كُنْتُ مِنْ أَبْنَاءِ أَسَاوِرَةِ فَارِسٍ قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ : فَانْطَلَقْتُ تَرْفَعُنِي أَرْضٌ وَتَخْفِضُنِي أُخْرَى ، حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْأَعْرَابِ فَاسْتَعْبَدُونِي فَبَاعُونِي ، حَتَّى اشْتَرَتْنِي امْرَأَةٌ ، فَسَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ الْعَيْشُ عَزِيزًا ، فَقُلْتُ لَهَا : هَبِي لِي يَوْمًا ، قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ ، فَصَنَعْتُ طَعَامًا ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . قُلْتُ : صَدَقَةٌ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " كُلُوا " . وَلَمْ يَأْكُلْ ، فَقُلْتُ : هَذِهِ مِنْ عَلَامَاتِهِ . ¤ ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَمْكُثَ ، فَقُلْتُ لِمَوْلَاتِي : هَبِي لِي يَوْمًا ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، فَصَنَعْتُ طَعَامًا ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ ، وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . فَقُلْتُ : هَدِيَّةٌ ، فَوَضَعَ يَدَهُ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ " . ¤ وَقُمْتُ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ ، فَإِذَا خَاتَمُ النُّبُوَّةِ ، فَقُلْتُ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " . فَحَدَّثْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ قَالَ : " لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں فارس کے ” اساور ہ “ ( ایک مخصوص قوم مراد ہے ) میں سے تھا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : پھر میں روانہ ہوا ، مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا میں کچھ دیہاتیوں کے پاس سے گزرا ، انہوں نے مجھے غلام بنا کے مجھے فروخت کر دیا ، یہاں تک کہ ایک عورت نے مجھے خرید لیا ، میں نے اُن لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے دیکھا ، زندگی ان دنوں آرام سے گزر رہی تھی ، میں نے اس خاتون سے کہا: آپ مجھے ایک دن کی چھٹی دے دیں ، اس خاتون نے کہا: ٹھیک ہے ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں گیا ، میں نے لکڑیاں اکٹھی کیں ، انہیں فروخت کیا پھر کھانا تیار کیا اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، وہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا ، آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یہ صدقہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ کھا لو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے نہیں کھایا ، میں نے سوچا یہ ان کی مخصوص علامات میں سے ایک ہے ، پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، اتنا عرصہ گزر گیا ، پھر میں نے اپنی مالکن سے کہا: آپ مجھے ایک دن کی چھٹی دیں ، اس خاتون نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر میں گیا ، میں نے لکڑیاں اکٹھی کیں ، پھر میں نے انہیں پہلے سے زیادہ قیمت پر فروخت کیا اور اس کے ذریعے کھانا تیار کیا ، میں وہ کھانا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ اس وقت اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، میں نے وہ کھانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا ، آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یہ تحفہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ، آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ بھی اللہ کا نام لے کر لو ، میں اُٹھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ہٹائی ، تو وہاں مہر نبوت موجود تھی ، میں نے عرض کی : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو میں نے آپ کو اس شخص کے بارے میں بتایا ، پھر میں نے آپ سے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ؟ اس نے مجھے یہ بتایا تھا کہ آپ نبی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15835
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن