مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ : لَمَّا قُلْتُ : وَأَيْنَ تَقَعُ هَذِهِ مِنَ الَّذِي عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ أَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَلَّبَهَا عَلَى لِسَانِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " خُذْهَا فَأَوْفِهِمْ مِنْهَا [ فَأَخَذْتُهَا فَأَوْفَيْتُهُمْ مِنْهَا ] حَقَّهُمْ كُلَّهُ أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ كُلَّهُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ بِأَسَانِيدَ ، وَإِسْنَادُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى عِنْدَ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ . وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ انْفَرَدَ بِهَا أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میرے ذمہ لازم ادائیگی کہاں سے پوری کرے گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور آپ نے اپنی زبان پر اسے پلٹا ( شاید یہ مراد ہو کہ اس پر اپنا لعاب دہن لگایا ) پھر آپ نے فرمایا : تم اسے لو ! اور اس میں سے اسے پوری ادائیگی کر دو ، میں نے اسے لیا اور اس میں سے انہیں پوری ادائیگی کر دی ، جو چالیس اوقیہ تھی ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایات مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، امام أحمد اور امام طبرانی کی پہلی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے بھی سماع کی صراحت کی ہے ، جبکہ دوسری روایت کہ رجال کو نقل کرنے میں امام أحمد منفرد ہیں اور اس کے جال صحیح کے رجال ہیں ، عمرو بن ابوقرہ کندی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اور
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔