مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15827
وَعَنْ أَبِي شُعْبَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي ذَرٍّ فَعَرَضَ عَلَيْهِ نَفَقَةً ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : عِنْدَنَا أَعْنُزُ نَحْلِبُهَا ، وَحُمُرٌ تَنْقِلُنَا ، وَمُحَرَّرَةٌ تَخْدِمُنَا ، وَفَضْلُ عَبَاءَةٍ عَنْ كِسْوَتِنَا ، إِنِّي لَأَخَافُ أَنْ أُحَاسَبَ عَلَى الْفَضْلِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو شُعْبَةَ الْبَكْرِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
ابوشعبہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے سامنے رقم پیش کی ، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہمارے پاس بکریاں ہیں ، جن کا دودھ ہم دوہ لیتے ہیں ، اور گدھے ہیں جن پر ہم سفر کر لیتے ہیں ، اور آزاد بیوی ہے جو ہماری خدمت کرتی ہے ، اور اضافی لباس بھی ہے ، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں اضافی چیز کے حوالے سے مجھ سے حساب نہ لیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور شعبہ بکری نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔