حدیث نمبر: 15826
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : بَلَغَ الْحَارِثَ - رَجُلٌ كَانَ بِالشَّامِ مِنْ قُرَيْشٍ - أَنَّ أَبَا ذَرٍّ كَانَ بِهِ عَوَزٌ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِثَلَاثِ مِائَةِ دِينَارٍ ، فَقَالَ : مَا وَجَدَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ هُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ مِنِّي ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أَرْبَعُونَ فَقَدْ أَلْحَفَ " . وَلِأَبِي ذَرٍّ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا ، وَأَرْبَعُونَ شَاةً وَمَاهِنَانِ . قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ : يَعْنِي خَادِمَيْنِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : شام میں قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا ، اس کا نام حارث تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو حاجت لاحق ہوئی ، تو انہوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو تین سو دینار بھیجے ، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : عبداللہ کو ایسا کوئی بندہ نہیں ملا ، جو اس کے نزدیک مجھ سے زیادہ بے حیثیت ہوتا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مانگے اور اُس کے پاس چالیس ہوں ، تو اس نے لپٹ کر مانگا ۔ “ راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس چالیس درہم تھے ، چالیس بکریاں تھیں اور دو خادم تھے ۔ ابوبکر بن عیاش کہتے ہیں : اس سے مراد خادم ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن أحمد بن عبداللہ بن یونس کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15826
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1630)»