حدیث نمبر: 15825
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خِرَاشٍ قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ فِي ظُلَّةٍ سَوْدَاءَ وَمَعَهُ امْرَأَةٌ شَحْمَاءُ ، وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى قِطْعَةِ جَوَالِقَ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنَّكَ امْرُؤٌ لَا يَبْقَى لَكَ وَلَدٌ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يَأْخُذُهُمْ فِي الْفَنَاءِ وَيَدَّخِرُهُمْ فِي دَارِ الْبَقَاءِ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا ذَرٍّ ، لَوِ اتَّخَذْتَ امْرَأَةً غَيْرَ هَذِهِ ، فَقَالَ : لَأَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَضَعُنِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنِ امْرَأَةٍ تَرْفَعُنِي قَالُوا لَهُ : لَوِ اتَّخَذْتَ بِسَاطًا أَلْيَنَ مِنْ هَذَا ! فَقَالَ : اللَّهُمَّ غُفْرًا ; خُذْ مِمَّا خَوَّلْتَ مَا بَدَا لَكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

عبدالله بن خراش بیان کرتے ہیں : میں نے ” ربذہ “ کے مقام پر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو ایک سیاہ چھپر میں دیکھا ، اُن کے ساتھ ایک بھاری بھرکم خاتون تھیں اور سیدنا ابوزر رضی اللہ عنہ اس وقت جوالق ( شاید مشکیزہ مراد ہے ) کے ٹکڑے پر بیٹھے ہوئے تھے ، ان سے کہا: گیا : آپ ایک ایسے افراد ہیں کہ آپ کی اولاد زندہ نہیں رہتی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے فنا ہونے والی دنیا میں سے اُنہیں لے لیا اور باقی رہ جانے والی ( آخرت ) میں اُنہیں ذخیرہ کر لیا ۔ “ لوگوں نے کہا: اے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ! اگر آپ اس خاتون کی بجائے کسی اور خاتون کو رکھتے ، تو مناسب تھا ، انہوں نے فرمایا : میں ایک ایسی عورت کے ساتھ شادی کروں ، جو مجھے پست رکھے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ ایسی عورت ہو جو مجھے بلند کرے ۔ لوگوں نے کہا: اگر آپ اس سے زیادہ نرم بچھونا بچھا لیتے تو مناسب ہوتا ، انہوں نے فرمایا : اے اللہ ! تجھ سے مغفرت کا سوال ہے ، تم نے جو عطیہ کے طور پر دیا ہو اس میں سے جو تمہیں مناسب لگے وہ لے لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15825
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1629)»