حدیث نمبر: 15814
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : كَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ : أُنَيْسٌ ، وَكَانَ شَاعِرًا ، فَتَنَافَرَ هُوَ وَشَاعِرٌ آخَرُ ، فَقَالَ أُنَيْسٌ : أَنَا أَشْعَرُ مِنْكَ ، وَقَالَ الْآخَرُ : أَنَا أَشْعَرُ ، فَقَالَ أُنَيْسٌ : فَبِمَنْ تَرْضَى أَنْ يَكُونَ بَيْنَنَا ؟ قَالَ : أَرْضَى أَنْ يَكُونَ بَيْنَنَا كَاهِنُ مَكَّةَ . قَالَ : نَعَمْ ، فَخَرَجَا إِلَى مَكَّةَ فَاجْتَمَعَا عِنْدَ الْكَاهِنِ ، فَأَنْشَدَهُ هَذَا كَلَامَهُ وَهَذَا كَلَامَهُ ، فَقَالَ لِأُنَيْسٍ : قَضَيْتَ لِنَفْسِكَ ، فَكَأَنَّهُ فَضَّلَ شِعْرَ أُنَيْسٍ . فَقَالَ أَخِي : بِمَكَّةَ رَجُلٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَهُوَ عَلَى دِينِكَ . ¤ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ : وَمَا كَانَ دِينُكَ ؟ قَالَ : رَغِبْتُ عَنْ آلِهَةِ قَوْمِي الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ . فَقُلْتُ : أَيَّ شَيْءٍ كُنْتَ تَعْبُدُ ؟ قَالَ : لَا شَيْءَ ، كُنْتُ أُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى أَسْقُطَ كَأَنِّي خَفَاءٌ حَتَّى يُوقِظَنِي حَرُّ الشَّمْسِ . فَقِيلَ لَهُ : أَيْنَ كُنْتَ تُوَجِّهُ وَجْهَكَ ؟ قَالَ : حَيْثُ وَجَّهَنِي رَبِّي . ¤ قَالَ لِي أُنَيْسٌ : وَقَدْ شَنَئُوهُ - يَعْنِي كَرِهُوهُ - . ¤ قَالَ أَبُو ذَرٍّ : فَجِئْتُ حَتَّى دَخَلْتُ مَكَّةَ ، فَكُنْتُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً وَيَوْمًا ، أَخْرُجُ كُلَّ لَيْلَةٍ فَأَشْرَبُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ شَرْبَةً ، فَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سَخْفَةَ جُوعٍ وَقَدْ تَعَكَّنَ بَطْنِي ، فَجَعَلْتِ امْرَأَتَانِ تَدْعُوَانِ لَيْلَةً آلِهَتَهُمَا ، وَتَقُولُ إِحْدَاهُمَا : يَا أَسَافُ ، هَبْ لِي غُلَامًا ، وَتَقُولُ الْأُخْرَى : يَا نَائِلَةُ ، هَبْ لِي كَذَا وَكَذَا . فَقُلْتُ : هُنَّ بِهِنَّ فَوَلَّتَا وَجَعَلَتَا تَقُولَانِ : الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا ، إِذْ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ يَمْشِي وَرَاءَهُ ، فَقَالَتَا : الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا ، فَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَلَامٍ قَبَّحَ مَا قَالَتَا . قَالَ أَبُو ذَرٍّ : فَظَنَنْتُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " . - ثَلَاثًا - ثُمَّ قَالَ لِي : " مُنْذُ كَمْ أَنْتَ هَهُنَا ؟ " . قُلْتُ : مُنْذُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا وَلَيْلَةً . قَالَ : " فَمِنْ أَيْنَ كُنْتَ تَأْكُلُ ؟ " . قُلْتُ : كُنْتُ آتِي زَمْزَمَ كُلَّ لَيْلَةٍ نِصْفَ اللَّيْلِ فَأَشْرَبُ مِنْهَا شَرْبَةً ، فَمَا وُجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سَخْفَةَ جُوعٍ وَلَقَدْ تَعَكَّنَ بَطْنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا طُعْمٌ وَشُرْبٌ ، وَهِيَ مُبَارَكَةٌ " - قَالَهَا ثَلَاثًا - . ثُمَّ سَأَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " . فَقُلْتُ : مِنْ غِفَارَ قَالَ : وَكَانَتْ غِفَارُ يَقْطَعُونَ عَلَى الْحَاجِّ ، فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَقَبَّضَ عَنِّي ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : " انْطَلِقْ يَا أَبَا بَكْرٍ انْطَلِقْ يَا أَبَا بَكْرٍ " . فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَرَّبَ لَنَا زَبِيبًا ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ ، وَأَقَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَّمَنِي الْإِسْلَامَ ، وَقَرَأْتُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُظْهِرَ دِينِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ أَنْ تُقْتَلَ " . قُلْتُ : لَا بُدَّ مِنْهُ ، قَالَ : إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ أَنْ تُقْتَلَ " . قُلْتُ : لَا بُدَّ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ قُتِلْتُ، فَسَكَتَ عَنِّي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُرَيْشٌ حِلَقٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقُلْتُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَتَنَفَّضَتِ الْحِلَقُ ، فَقَامُوا إِلَيَّ فَضَرَبُونِي حَتَّى تَرَكُونِي كَأَنِّي [ نُصُبٌ ] أَحْمَرُ ، وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ قَدْ قَتَلُونِي ، فَقُمْتُ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَرَأَى مَا بِي مِنَ الْحَالِ ، فَقَالَ : " أَلَمْ أَنْهَكَ ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَاجَةٌ كَانَتْ فِي نَفْسِي فَقَضَيْتُهَا ، فَأَقَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] فَقَالَ لِي : " الْحَقْ بِقَوْمِكَ ، فَإِذَا بَلَغَكَ ظُهُورِي فَائْتِنِي " . فَجِئْتُ وَقَدْ أَبْطَأْتُ عَلَيْهِمْ ، فَلَقِيتُ أُنَيْسًا فَبَكَى وَقَالَ : يَا أَخِي ، مَا كُنْتُ أَرَاكَ إِلَّا قَدْ قُتِلْتَ لِمَا أَبْطَأْتَ عَلَيْنَا ، مَا صَنَعْتَ ؟ أَلَقِيتَ صَاحِبَكَ الَّذِي طَلَبْتَ ؟ فَقُلْتُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَأَسْلَمَ مَكَانَهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ أُمِّي فَلَمَّا رَأَتْنِي بَكَتْ وَقَالَتْ : [ يَا بُنَيَّ ] ، أَبْطَأْتَ عَلَيْنَا حَتَّى تَخَوَّفْتُ أَنْ قَدْ قُتِلْتَ ، مَا فَعَلْتَ ؟ أَلَقِيتَ صَاحِبَكَ الَّذِي طَلَبْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . قَالَتْ : فَمَا صَنَعَ أُنَيْسٌ ؟ قُلْتُ : أَسْلَمَ ، فَقَالَتْ : وَمَا بِي عَنْكُمَا رَغْبَةٌ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . فَأَقَمْتُ فِي قَوْمِي ، فَأَسْلَمَ مِنْهُمْ نَاسٌ كَثِيرٌ ، حَتَّى بَلَغَنَا ظُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْتُهُ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرا ایک بھائی تھا ، جس کا نام انیس تھا ، وہ شاعر تھا ، اس کا ایک شاعر کے ساتھ مکالمہ ہوا ، انیس نے کہا: میں تم سے زیادہ بڑا شاعر ہوں ، دوسرے نے کہا: میں بڑا شاعر ہوں ، انیس نے کہا: تم کس فرد پر راضی ہوتے ہو ؟ جو ہمارے درمیان فیصلہ کرے ، تو اس نے کہا: میں اس بات پر راضی ہوؤں گا کہ مکہ کا کاہن ہمارے درمیان فیصلہ کرے تو اس نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر وہ دونوں نکل کر مکہ چلے گئے ، وہ دونوں اس کاہن کے پاس اکٹھے ہوئے ، انیس نے بھی اپنا کلام سنایا ، دوسرے نے بھی اپنا کلام سنایا ، تو کاہن نے انیس سے کہا: تم نے اپنے ذمہ لازم چیز کو ادا کر دیا ہے ، تو گویا اس نے انیس کے شعر کو بہتر قرار دیا ، میرے بھائی نے آ کر بتایا : مکہ میں ایک فرد ہیں ، جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں اور وہ تمہارے دین کے مطابق ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ کا دین کیا تھا ؟ انہوں نے بتایا : میری قوم کے لوگ جن معبودوں کی عبادت کرتے تھے ، میں نے ان سے منہ موڑ لیا ہوا تھا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : پھر آپ کس کی عبادت کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : کسی چیز کی نہیں کی ، میں رات کے وقت نماز پڑھتا تھا ( یا دعا کرتا تھا ) یہاں تک کہ میں یوں گر جاتا تھا ، جیسے میں چادر ہوں ، یہاں تک کہ دھوپ کی تپش مجھے بیدار کرتی تھی ، اُن سے دریافت کیا گیا : آپ کس طرف رُخ کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: جس طرح میرا پروردگار مجھے پھیر دیتا تھا ، اُس طرف ۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انیس نے مجھ سے کہا: اُن لوگوں نے انہیں برا قرار دیا ہے ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں آیا ، میں مکہ میں داخل ہوا ، میں خانہ کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان پندرہ دن ٹھہرا رہا ، میں دن کے وقت باہر آتا تھا ، آب زمزم پی لیتا تھا ، تو مجھے بھوک محسوس نہیں ہوتی تھی ، بلکہ میرے پیٹ پر شکنیں پڑنا شروع ہو گئیں ، اسی دوران ایک مرتبہ دو عورتیں رات کے وقت آئیں ، وہ اپنے معبودوں سے دعا کر رہی تھیں ، ان میں سے ایک یہ کہہ رہی تھی : اے اساف ! تم مجھے بیٹا دے دو ، دوسری کہہ رہی تھی : اے نائلہ ! تم مجھے یہ یہ چیز دو ! تو میں نے کہا: یہ فضولیات ہیں ، تو وہ دونوں یہ کہتے ہوئے چلی گئیں کہ ایک بے دین شخص کعبہ کے پردوں کے درمیان موجود ہے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اُن عورتوں نے کہا: کعبہ کے پردوں کے پیچھے ایک بے دین شخص موجود ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کہی ہوئی بات کو برا قرار دیا ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ یہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، میں نکل کر آپ کے پاس آیا ، میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کو سلام ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر بھی سلام ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں ، یہ کلمات آپ نے تین مرتبہ کہے ، پھر آپ نے مجھ سے دریافت کیا : تم کتنے عرصے سے یہاں پر ہو ؟ میں نے عرض کی : پندرہ دن سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کہاں سے کھاتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں زمزم کے پاس نصف رات کے وقت آتا ہوں اور اس میں سے کچھ پی لیتا ہوں ، تو مجھے اپنے جگر پر بھوک کی سختی محسوس نہیں ہوتی ، بلکہ میرے پیٹ پر شکنیں پڑ گئی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ضرورت بھی پوری کرتا ہے اور پینے کی ضرورت بھی پوری کرتا ہے ، اور یہ برکت والی چیز ہے ، یہ کلمات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائے ، پھر آپ نے مجھ سے دریافت کیا : تمہارا تعلق کس قبیلے سے ہے ؟ میں نے کہا: غفار قبیلے سے ہے ، راوی کہتے ہیں : غفار قبیلے کے لوگ حاجیوں کو لوٹ لیا کرتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے حوالے سے کچھ الجھن ہوئی ، آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابوبکر ! تم چلو ! اے ابوبکر ! تم چلو ! پھر وہ ہمیں ساتھ لے کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر چلے گئے ، انہوں نے میرے سامنے کشمش رکھی ، ہم نے اس میں سے کچھ کھایا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہر گیا ، آپ نے مجھے اسلامی احکامات کی تعلیم دی اور کچھ قرآن سکھایا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے دین کو ظاہر کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ تمہیں قتل کر دیا جائے گا ، میں نے کہا: لیکن میں ایسا ضرور کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ تمہیں قتل کر دیا جائے گا ، میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں ایسا ضرور کروں گا ، اگرچہ مجھے قتل کر دیا جائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ، قریش کے لوگ خانہ کعبہ کے آس پاس حلقے بنا کر بیٹھے ہوئے بات چیت کر رہے تھے ، میں نے آ کے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو وہ حلقے ختم ہوئے اور وہ لوگ اُٹھ کر میری طرف آئے اور انہوں نے میری پٹائی کرنی شروع کر دی ، یہاں تک کہ انہوں نے مجھے ایسی حالت میں چھوڑا کہ میں سرخ استھان کی مانند تھا ، وہ یہ سمجھے تھے کہ وہ مجھے قتل کر چکے ہیں ، میں اُٹھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یہ صورت حال دیکھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے دل میں ایک خواہش تھی ، وہ میں نے پوری کر لی ہے ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہرا رہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی قوم کے پاس واپس چلے جاؤ ! جب تمہیں میرے ظہور کے بارے میں پتہ چلے ، تو تم میرے پاس آ جانا ، تو میں اپنی قوم کے پاس واپس آ گیا ۔ مجھے اُن لوگوں کے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ، میری ملاقات ( اپنے بھائی ) انیس سے ہوئی ، تو وہ رونے لگا اس نے کہا: اے میرے بھائی ! تمہیں آنے میں اتنی تاخیر ہو گئی تھی کہ تمہارے بارے میں ، میں تو یہ سمجھ رہا تھا کہ تم شاید قتل ہو گئے ہو گے ، تمہارا کیا بنا ؟ کیا تمہاری ملاقات ان صاحب سے ہو گئی ؟ جن کی تلاش میں تم گئے تھے ، میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہیں ، تو انیس نے بھی اسی جگہ اسلام قبول کر لیا ، پھر میں اپنی والدہ کے پاس آیا ، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو رونے لگیں اور بولیں : اے میرے بیٹے ! تمہیں ہمارے پاس آنے میں اتنی تاخیر ہو گئی کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں تم قتل نہ ہو گئے ، ہو تمہارا کیا بنا ؟ کیا تمہاری ملاقات ان صاحب سے ہو گئی ؟ جن کی تلاش میں تم گئے تھے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تو میری والدہ نے جواب دیا : انیس نے کیا کیا ؟ میں نے کہا: اس نے اسلام قبول کر لیا ، تو میری والدہ نے کہا: میں بھی تم دونوں سے منہ نہیں پھیروں گی ، میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں اپنی قوم میں مقیم رہا اور ان میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، یہاں تک کہ جب ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا پتہ چلا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15814
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح