حدیث نمبر: 15815
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدِهِ أَيْضًا : فَاحْتَمَلْتُ أُمِّي وَأُخْتِي حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ ، فَقَالَ أَخِي : إِنِّي مُدَافِعٌ رَجُلًا عَلَى الْمَاءِ بِشِعْرٍ - وَكَانَ امْرَأً شَاعِرًا - فَقُلْتُ : لَا تَفْعَلْ ، فَخَرَجَ بِهِ اللَّجَاجُ حَتَّى دَافَعَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ صِرْمَتُهُ إِلَى صِرْمَتِهِ ، وَأَيْمُ اللَّهِ لَدُرَيْدٌ يَوْمَئِذٍ أَشْعَرُ مِنْ أَخِي ، فَتَقَاضَيَا إِلَى خَنْسَاءَ ، فَقَضَتْ لِأَخِي عَلَى دُرَيْدٍ وَذَلِكَ أَنْ دُرَيْدًا خَطَبَهَا إِلَى أَبِيهَا ، فَقَالَتْ : شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ، فَحَقَدَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَضَمَمْنَا صِرْمَتَهُ إِلَى صِرْمَتَنَا ، فَكَانَتْ لَنَا هَجْمَةٌ . ¤ ثُمَّ أَتَيْتُ مَكَّةَ فَابْتَدَأَتُ بِالصَّفَا ، فَإِذَا عَلَيْهِ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ ، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ بِهَا صَابِئًا ، أَوْ مَجْنُونًا ، أَوْ شَاعِرًا ، أَوْ سَاحِرًا ، فَقُلْتُ : أَيْنَ الَّذِي يَزْعُمُونَ ؟ فَقَالُوا : هُوَ ذَاكَ حَيْثُ تَرَى ، فَانْقَلَبْتُ إِلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا جُزْتُ عَنْهُمْ قِيسَ حَجَرٍ حَتَّى أَكَبُّوا عَلَيَّ كُلَّ حَجَرٍ وَعَظْمٍ وَمَدَرٍ فَضَرَجُونِي بِدَمِي ، فَأَتَيْتُ الْبَيْتَ فَدَخَلْتُ بَيْنَ السُّتُورِ وَالْبِنَاءَ ، وَصُمْتُ فِيهِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا لَا آكُلُ وَلَا أَشْرَبُ إِلَّا مَاءَ زَمْزَمَ ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ قَمْرَاءُ إِضْحِيَانَ فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ خُزَاعَةَ فَطَافَتَا بِالْبَيْتِ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا فِي الصَّحِيحِ . وَفِي الطَّرِيقِ الْأُولَى أَبُو الطَّاهِرِ يَرْوِي عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْ أَبَا الطَّاهِرِ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَفِي الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

اُن کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے اپنی والدہ اور اپنی بہن کو سوار کیا ، یہاں تک کہ ہم مکہ کے قریب آ کر ٹھہر گئے ، میرے بھائی نے کہا: میں نے ایک شخص کے ساتھ پانی کے پاس مقابلہ کرنا ہے ، وہ شخص ایک شاعر تھا ، میں نے کہا: تم ایسا نہ کرو ، لیکن پھر لجاج اسے اپنے ساتھ لے گیا اور اس کا مقابلہ درید بن صمہ سے کروایا ، اس میں اونٹوں کی بڑی تعداد انعام یا شرط قرار پائی ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! درید میرے بھائی سے زیادہ بڑا شاعر تھا ، اُن دونوں نے خنساء نامی خاتون کو ثالث مقرر کیا ، تو اس خاتون نے درید کے مقابلے میں ، میرے بھائی کے حق میں فیصلہ دے دیا ، اس کی وجہ یہ تھی کہ درید نے اس خاتون کے باپ کو اس خاتون کے ساتھ شادی کا پیغام دیا تھا ، تو اس خاتون نے کہا: تھا : یہ ایک بوڑھا آدمی ہے ، مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ، تو اس خاتون نے درید کے خلاف دل میں غصہ رکھا ہوا تھا ، ہم نے انعام کے اونٹ اپنے اونٹوں کے ساتھ ملا لئے ، تو ہمارے اونٹوں کی تعداد ایک سو کے قریب ہو گئی ، پھر میں مکہ آیا ، میں پہلے صفا پر آیا ، وہاں قریش کے کچھ افراد موجود تھے ، مجھے یہ بات پتہ چلی کہ وہ لوگ یہ کہتے ہیں : وہ فرد بے دین ہے ، یا پاگل ہے ، یا شاعر ہے ، یا جادوگر ہے ، تو میں نے کہا: وہ صاحب کہاں ہیں ؟ جن کے بارے میں لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ ایسے ہیں ، تو لوگوں نے بتایا کہ وہ ہیں ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اللہ کی قسم ! ابھی میں اُن سے ذرا ہی دور گیا تھا کہ انہوں نے اپنے پاس موجود ہر پتھر ، ہڈی اور ڈھیلے کو پکڑا اور مجھے مار مار کے خون آلود کر دیا ، میں بیت اللہ کے پاس آیا اور اس کی عمارت اور پردوں کے درمیان داخل ہو گیا ، میں نے تین دن تک روزہ رکھا ، اس دوران میں نے کچھ کھایا پیا نہیں ، صرف آب زمزم پیتا تھا ، یہاں تک کہ جب ایک چاندنی رات آئی ، تو اسی دوران خزاعہ قبیلے کی دو عورتیں آئیں اور انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس روایت کی مانند ہے ، جو ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔ پہلے طریق میں ایک راوی ابوطاہر ہے جس نے ابویزید مدینی کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے اور میں ابوطاہر سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ دوسری روایت میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15815
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (60)»