حدیث نمبر: 15792
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا قَالَ أَبُو الدَّحْدَاحِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ يُرِيدُ مِنَّا الْقَرْضَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ " . قَالَ : أَرِنَا يَدَكَ قَالَ : فَنَاوَلَهُ يَدَهُ قَالَ : قَدْ أَقْرَضْتُ رَبِّي حَائِطِي - وَحَائِطُهُ فِيهِ سِتُّمِائَةِ نَخْلَةٍ - فَجَاءَ يَمْشِي حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ وَأُمُّ الدَّحْدَاحِ فِيهِ وَعِيَالُهَا ، فَنَادَى : يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ قَالَتْ : لَبَّيْكَ قَالَ : اخْرُجِي فَقَدْ أَقْرَضْتُهُ رَبِّي . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” کون شخص ہے ، جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے ۔ “ تو سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ ہم سے قرض طلب کر رہا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اے ابودحداح ! انہوں نے عرض کی : آپ اپنا ہاتھ مجھے دکھائیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا ، تو انہوں نے عرض کی : میں اپنا باغ اپنے پروردگار کو قرض کے طور پر دیتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : اُن کے باغ میں کھجوروں کے چھ سو درخت تھے ، پھر وہ چلتے ہوئے اس باغ کے پاس آئے ، اُم دحداح اور ان کے گھر کے افراد اس باغ میں موجود تھے ، انہوں نے بلند آواز میں پکار کر کہا: اے ام دحداح ! اس خاتون نے کہا: میں حاضر ہوں ، انہوں نے کہا: تم باہر نکل آؤ ! کیونکہ یہ میں نے اپنے پروردگار کو قرض کے طور پر دے دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15792
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4986) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (301/22)»