مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي الدَّحْدَاحِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا [ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَنِي حَتَّى أُقِيمَ حَائِطِي بِهَا ] فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَعْطِهِ إِيَّاهَا بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ " . فَأَبَى ، فَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ ، فَقَالَ : بِعْنِي نَخْلَتِكَ بِحَائِطِي ، قَالَ [فَفَعَلَ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي قَالَ ] : فَاجْعَلْهَا لَهُ فَقَدَ أَعْطَيْتُكَهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَمْ مِنْ عِذْقٍ رَدَّاحٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ " [ فِي الْجَنَّةِ ] . قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا . قَالَ : فَأَتَى امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ ، اخْرُجِي مِنَ الْحَائِطِ ; فَإِنِّي قَدْ بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ ، فَقَالَتْ : رَبِحَ الْبَيْعُ - أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص کا کھجور کا ایک درخت ہے اور وہ میرے باغ میں ہے ، اور میں اپنے اس باغ میں رہتا ہوں ، تو آپ اس شخص کو یہ حکم دیں تاکہ وہ مجھے وہ درخت دیدے ، تاکہ میں اپنے باغ میں رہ سکوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس شخص سے ) فرمایا : تم جنت میں کھجور کے ایک درخت کے عوض میں وہ درخت اسے دے دو ! اس شخص نے انکار کر دیا ، سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ اس شخص کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : تم اپنا وہ درخت میرے باغ کے عوض میں مجھے فروخت کر دو ! تو اس نے ایسا کر دیا ، سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اپنے باغ کے عوض میں وہ درخت خرید لیا ہے ، تو آپ وہ درخت اس متعلقہ شخص کو دے دیں ، وہ میں نے آپ کی نذر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں ابودحداح کے کتنے ہی کھجوروں کے وزنی گچھے ہیں ۔ “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اسے اُم دحداح ! اس باغ سے باہر آ جاؤ ! کیونکہ میں نے جنت میں موجود کھجور کے ایک درخت کے عوض میں اسے فروخت کر دیا ہے ، تو اس خاتون نے کہا: یہ کامیابی کا سودا ہے ، یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ کہا: ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔