حدیث نمبر: 15785
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ جَاءَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ وَقَدْ نُشِرَ أَكْفَانُهُ وَتَحَنَّطَ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ ، وَأَعْتَذِرُ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ . فَقُتِلَ ، وَكَانَتْ لَهُ دِرْعٌ فَسُرِقَتْ ، فَرَآهُ رَجُلٌ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ ، فَقَالَ : إِنَّ دِرْعِي فِي قِدْرٍ تَحْتَ الْكَانُونِ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، وَوَصَّاهُ بِوَصَايَا ، فَطَلَبُوا الدِّرْعَ فَوَجَدُوهَا وَأَنْفَذُوا الْوَصَايَا . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قِصَّةِ الدِّرْعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ کے دن تشریف لائے ، انہوں نے اپنا کفن کھولا ، خوشبو لگائی اور پھر فرمایا : اے اللہ ! اُن لوگوں نے جو کچھ کیا ہے ، میں اس کے حوالے سے تیرے سامنے بری ذمہ ہونے کا اعلان کرتا ہوں ، اور ان لوگوں نے جو کچھ کیا ہے ، اس کے حوالے سے میں تیرے سامنے معذرت پیش کرتا ہوں ، تو وہ شہید ہو گئے ، ان کی جو زرہ تھی ، وہ چوری ہو گئی ، ایک شخص نے انہیں خواب میں دیکھا ، انہوں نے فرمایا : میری زرہ فلاں فلاں جگہ پر فلاں چیز کے نیچے ہے اور پھر انہوں نے اس شخص کو خواب میں کچھ وصیتیں کیں ، ان لوگوں نے اس زرہ کو تلاش کیا ، تو وہ زرہ مل گئی اور ان لوگوں نے ان کی وصیتوں کو نافذ کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ واقعہ ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں زرہ والا واقعہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15785
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1307)»