حدیث نمبر: 15784
وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَمَّنْ يُحَدِّثُنِي عَنْ حَدِيثِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، فَأَرْشَدُونِي إِلَى ابْنَتِهِ ، فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : لَمَّا أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ " ، اشْتَدَّ عَلَى ثَابِتٍ ، وَأَغْلَقَ بَابَهُ عَلَيْهِ وَطَفِقَ يَبْكِي ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَبُرَ عَلَيْهِ مِنْهَا ، وَقَالَ : أَنَا رَجُلٌ أُحِبُّ الْجَمَالَ وَأَنْ أَسُودَ قَوْمِي ، فَقَالَ : " إِنَّكَ لَسْتَ مِنْهُمْ ، بَلْ تَعِيشُ بِخَيْرٍ ، وَتَمُوتُ بِخَيْرٍ ، وَيُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ " . ¤ قَالَ : فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَأُخْبِرُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَبُرَ عَلَيْهِ ، وَأَنَّهُ جَهِيرُ الصَّوْتِ ، وَأَنَّهُ يَتَخَوَّفُ أَنْ يَكُونَ مِمَّنْ حَبِطَ عَمَلُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَلْ تَعِيشُ حَمِيدًا ، وَتُقْتَلُ شَهِيدًا ، وَيُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ " . ¤ فَلَمَّا اسْتَنْفَرَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - الْمُسْلِمِينَ إِلَى قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ ، وَالْيَمَامَةِ ، وَمُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ ، سَارَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِيمَنْ سَارَ ، فَلَمَّا لَقُوا مُسَيْلِمَةَ وَبَنِي حَنِيفَةَ هَزَمُوا الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ ثَابِتٌ وَسَالِمٌ - مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ - : مَا هَكَذَا كُنَّا نُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَا لِأَنْفُسِهِمَا حُفْرَةً فَدَخَلَا فِيهَا ، فَقَاتَلَا حَتَّى قُتِلَا . ¤ قَالَ : وَأُرِيَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَابِتَ بْنِ قَيْسٍ فِي مَنَامِهِ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمَّا قُتِلْتُ بِالْأَمْسِ مَرَّ بِي رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَانْتَزَعَ مِنِّي دِرْعًا نَفِيسَةً ، وَمَنْزِلُهُ فِي أَقْصَى الْعَسْكَرِ ، وَعِنْدَ مَنْزِلِهِ فُرْسٌ يَسْتَنُّ فِي طُولِهِ ، وَقَدْ أَكْفَأَ عَلَى الدِّرْعِ بُرْمَةً ، وَجَعَلَ فَوْقَ الْبُرْمَةِ رَجُلًا ، فَأْتِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَلْيَبْعَثْ إِلَى دِرْعِي فَلْيَأْخُذْهَا ، فَإِذَا قَدِمْتَ عَلَى خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْلِمْهُ : أَنَّ عَلَيَّ مِنَ الدَّيْنِ كَذَا وَكَذَا ، وَفُلَانٌ مِنْ رَقِيقِي عَتِيقٌ ، وَإِيَّاكَ أَنْ تَقُولَ هَذَا حُلْمٌ تُضَيِّعَهُ . ¤ قَالَ : فَأَتَى خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَوَجَّهَ إِلَى الدِّرْعِ فَوَجَدَهَا كَمَا ذَكَرَ ، وَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَخْبَرَهُ ، فَأَنْفَذَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَصِيَّتَهُ بَعْدَ مَوْتِهِ ، فَلَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا جَازَتْ وَصِيَّتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ إِلَّا ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَبِنْتُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ لَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ بِنْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ صَحَابِيَّةٌ ; فَإِنَّهَا قَالَتْ : سَمِعْتُ أَبِي ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

عطاء خراسانی بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا ، میں نے دریافت کیا : کون شخص مجھے سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرے گا ؟ تو لوگوں نے میری رہنمائی اُن کی صاحبزادی کی طرف کی ، میں نے اس خاتون سے سوال کیا ، تو اس نے بتایا : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی : ” بے شک اللہ تعالیٰ کسی بھی اترانے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ہے ۔ “ تو یہ بات سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ پر گراں گزری ، انہوں نے اپنا دروازہ بند کر لیا اور رونا شروع کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیج کر بلوایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ انہیں کیا چیز گراں گزری ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں ایک ایسا شخص ہوں ، جو جمال کو پسند کرتا ہے اور میں اپنی قوم کا سردار بھی ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُن افراد میں سے میں ایک نہیں ہو ، بلکہ تم بھلائی والی زندگی بسر کرو گے اور بھلائی والی موت مرو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی : ” اے ایمان والو ! تم اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور تم ان کے سامنے بلند آواز میں بات نہ کرو ۔ “ تو پھر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے اُسی طرح کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں پتہ چلا تو آپ نے انہیں پیغام بھیج کر بلوایا ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ جو چیز ان کے لئے مشکل کا باعث بنی ہے کہ ان کی آواز بلند ہے اور انہیں یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ ان افراد میں شامل نہ ہوں ، جن کے عمل ضائع ہو جائیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو گے اور شہید ہونے کے طور پر قتل ہو گے ، اور اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتد ہونے والے افراد ، یمامہ کے افراد اور مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ کرنے کے لئے مسلمانوں کو روانہ ہونے کے لئے کہا: ، تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بھی جانے والوں میں شامل تھے ، جب مسلمانوں کا مقابلہ مسیلمہ اور بنوحنیفہ سے ہوا ، تو تین مرتبہ انہوں نے مسلمانوں کو پسپا کر دیا ، اس وقت سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ ، انہوں نے کہا: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح جنگ میں حصہ نہیں لیتے تھے ، انہوں نے اپنے لئے ایک گڑھا بنایا اور اس میں داخل ہو گئے اور لڑائی کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ دونوں شہید ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو خواب میں سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نظر آئے ، انہوں نے فرمایا : گزشتہ شام جب ہم قتل ہو گئے تھے ، تو مسلمانوں سے تعلق والا ایک فرد میرے پاس سے گزرا ، اور اس نے میری عمدہ زرہ مجھ سے اتار لی ، اس شخص کی رہائش لشکر کے دور دراز کے حصے میں ہے ، اور اس کی رہائشی جگہ کے پاس ایک گھوڑا ہو گا جو ادھر اُدھر بھاگا پھر رہا ہو گا ، اور اس نے اس زرہ کے اوپر ایک ہنڈیا الٹی کر کے رکھی ہوئی ہو گی ، اور اس ہنڈیا کے اوپر پاؤں دیا ہوا ہو گا ، تم سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ! اور انہیں کہو کہ وہ کسی شخص کو بھیجیں ، وہ میری زرہ جا کر لے آئے اور جب وہ خلیفہ کے پاس جائیں ، تو انہیں یہ بتا دیں کہ میرے ذمہ اتنا اتنا قرض ہے اور میرا فلاں غلام آزاد شمار ہو گا اور خیال رکھنا اور تم یہ نہ سمجھو کہ یہ کوئی پریشان خواب ہے ، اور تم اسے ضائع کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : وہ شخص سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے اس زرہ کی تلاش میں کسی شخص کو بھیجا ، تو وہ زرہ اسی حالت میں مل گئی ، جس طرح سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تھا ، پھر جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں اس بارے میں بتایا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے انتقال ہو جانے کے بعد ، ان کی ، کی ہوئی وصیت کو نافذ کیا ، ہمیں یہ علم نہیں ہے کہ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کی وصیت کو درست قرار دیا گیا ہو ، صرف سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بھی صحابیہ ہوں گی ، کیونکہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15784
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1320)»