حدیث نمبر: 15783
وَعَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ قَعَدَ ثَابِتٌ فِي الطَّرِيقِ يَبْكِي ، فَمَرَّ بِهِ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكَ يَا ثَابِتُ ؟ قَالَ : أَنَا رَفِيعُ الصَّوْتِ ، وَأَنَا أَخَافُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْآيَةُ نَزَلَتْ فِيَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا بُنَيَّ ، أَمَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا ، وَتُقْتَلَ شَهِيدًا ، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ ؟ " قَالَ : رَضِيَتُ بِبُشْرَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، لَا أَرْفَعُ صَوْتِي أَبَدًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَنَزَلَتْ : إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ . الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ ، فَالظَّاهِرُ أَنَّهُ صَحَابِيٌّ ، وَلَكِنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” تم لوگ اپنی آوازوں کو ، نبی کی آواز سے بلند نہ کرو ۔ “ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ راستے میں بیٹھ گئے اور رونے لگے ، عاصم بن عدی ان کے پاس سے گزرے ، انہوں نے فرمایا : اے ثابت ! اتم کیوں رو رہے ہو ؟ ثابت نے جواب دیا : میری آواز بلند ہے اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو گے ، شہید ہونے کے طور پر مرو گے اور جنت میں داخل ہو گے ، تو انہوں نے عرض کی : میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ملنے والی اس خوشخبری سے راضی ہوں ، اب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز کبھی بلند نہیں کروں گا ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” بے شک وہ لوگ جو اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے میں واقف نہیں ہوں ، لیکن انہوں نے یہ کہا: ہے : میرے والد سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، تو اس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ بھی صحابی ہیں ، لیکن ایک مسئلہ یہ بھی ہے ، زید بن حباب نامی راوی نے صحابہ میں سے کسی سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15783
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1316)»