مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ هَلَكْتُ قَالَ : " لِمَ ؟ " قُلْتُ : نَهَى اللَّهُ الْمَرْءَ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْحَمْدَ . وَنَهَى اللَّهُ عَنِ الْخُيَلَاءِ ، وَأَجِدُنِي أُحِبُ الْجَمَالَ . وَنَهَى أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ ، وَأَنَا امْرُؤٌ جَهِيرُ الصَّوْتِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا ، وَتُقْتَلَ شَهِيدًا ، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ ؟ " . قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَعَاشَ حَمِيدًا ، وَقُتِلَ شَهِيدًا يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ مُطَوَّلًا هَكَذَا وَمُخْتَصَرًا ، وَرِجَالُ الْمُخْتَصَرِ ثِقَاتٌ ، وَفِي رِجَالِ الْمُطَوَّلِ شَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي تَرْجَمَةِ أَبِيهِ فِي الثِّقَاتِ هُوَ وَأَخُوهُ عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَيَعْتَضِدُ بِثِقَةِ رِجَالِ الْمُخْتَصَرِ ، وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقِ إِسْمَاعِيلِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنْ ثَابِتًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِسْنَادُهُ مُتَّصِلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ تَابِعِيٌّ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ . ¤سیدنا ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ نے آدمی کو اس بات سے منع کیا ہے کہ اس نے جو کام نہ کیا ، ہو اُس کے حوالے سے وہ تعریف کا طلب گار ہو ، اور مجھے اپنے اندر یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ میں تعریف کو پسند کرتا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ نے تکبر سے منع کیا ہے اور مجھے اپنے اندر یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ میں خوبصورت چیزوں کو پسند کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم آپ کی آواز سے اپنی آواز بلند کریں ، اور میں ایک ایسا فرد ہوں جس کی آواز بلند ہوتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو اور شہید ہونے کے طور پر مر جاؤ ، اور جنت میں داخل ہو جاؤ ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! راوی بیان کرتے ہیں : تو انہوں نے قابل تعریف زندگی بسر کی ، اور مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ کے موقع پر شہید ہونے کے طور پر قتل ہوئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اسی طرح طویل اور مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے ، مختصر روایت کے رجال ثقہ ہیں اور طویل روایت میں امام طبرانی کے استاد أحمد بن محمد بن یحیی بن حمزہ خزرمی ہیں اور وہ ضعیف ہیں ، ابن حبان نے کتاب الثقات میں ان کے والد کے حالات میں انہیں ضعیف قرار دیا ہے ، وہ ہیں اور ان کے بھائی عبیداللہ ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور مختصر کے رجال اس کے ثقہ ہونے کو مضبوط کر دیتے ہیں ، انہوں نے
یہ روایت اسماعیل بن ثابت کے حوالے سے نقل کی ہے کہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کی سند متصل ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسماعیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اور تابعی ہیں ، اور انہوں نے اپنے والد ( سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ) سے سماع کیا ہے ۔