مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عبداللہ بن ابی کا تذکرہ
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، قَامَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَسَلَّ عَلَى أَبِيهِ السَّيْفَ وَقَالَ : لِلَّهِ عَلَيَّ أَلَّا أُغْمِدَهُ حَتَّى تَقُولَ : مُحَمَّدٌ الْأَعَزُّ وَأَنَا الْأَذَلُّ قَالَ : وَيْلَكَ ! مُحَمَّدٌ الْأَعَزُّ وَأَنَا الْأَذَلُّ ! فَبَلَغَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْجَبَهُ وَشَكَرَهَا لَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بنو مصطلق سے واپس تشریف لائے تو عبداللہ بن اُبی کا بیٹا ( ان کا نام بھی سیدنا عبداللہ ہی یہ ہے ) اس نے اپنے باپ کے سامنے تلوار سونت لی اور یہ کہا: اللہ کی قسم ! مجھ پر یہ بات لازم ہے کہ یہ تلوار میں اس وقت تک میان میں نہیں ڈالوں گا ، جب تک آپ یہ نہیں کہتے : کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے ہیں اور میں ذلیل ہوں ، تو عبداللہ بن اُبی نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے ہیں ، اور میں ذلیل ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی تو آپ کو یہ بات اچھی لگی اور آپ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عبدالله کا شکریہ ادا کیا ( یا ان کی تعریف کی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔