مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو منقول ہے
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : اسْتُشْهِدَ أَبِي وَعَمِّي وَعَلَى أَبِي دَيْنٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا جَابِرُ ، أَلَا أُبَشِّرُكَ بِبِشَارَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَحْيَا أَبَاكَ وَعَمَّكَ فَعَرَضَ عَلَيْهِمَا ، وَسَأَلَا رَبَّهُمَا أَنْ يَرُدَّهُمَا إِلَى الدُّنْيَا ، فَقَالَ : أَبَعْدَ مَا قَضَيْتُ فِي الْكِتَابِ أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ ؟ ! " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ خَالِيًا عَنْ ذِكْرِ عَمِّهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد اور میرے چچا نے جام شہادت نوش کر لیا ، میرے والد کے ذمہ قرض تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : اے جابر ! کیا میں تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ملنے والی خوشخبری نہ سناؤں ؟ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ اور تمہارے چچا کو زندہ کیا اور ان دونوں کے سامنے آیا ، ان دونوں نے اپنے پروردگار سے یہ درخواست کی کہ پروردگار ان دونوں کو دوبارہ دنیا کی طرف بھیج دے ، تو پروردگار نے فرمایا : یہ نہیں ہو سکتا ، کیونکہ میں کتاب میں یہ طے کر چکا ہوں کہ اُن لوگوں کو دنیا کی طرف نہیں لوٹایا جائے گا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، لیکن انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے چچا کا ذکر نہیں کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عمرو ہے اور وہ کذاب ہے ۔