حدیث نمبر: 15757
وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجَابِرٍ : " أَلَا أُبَشِّرُكَ يَا جَابِرُ ؟ " . قَالَ : [ بَلَى ] يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالْخَيْرِ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ أَحْيَا أَبَاكَ فَأَقْعَدَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : تَمَنَّ عَلَيَّ مَا شِئْتَ أُعْطِيكَهُ قَالَ : يَا رَبِّ ، مَا عَبَدْنَاكَ حَقَّ عِبَادَتِكَ ، أَتَمَنَّى عَلَيْكَ أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقَاتِلَ مَعَ نَبِيِّكَ فَأُقْتَلُ مَرَّةً أُخْرَى ، فَقَالَ لَهُ : قَدْ سَلَفَ مِنِّي إِنَّكَ إِلَيْهَا لَا تَرْجِعُ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ الْفَيْضِ بْنِ وَثِيقٍ ، عَنْ أَبِي عُبَادَةَ الزُّرَقِيِّ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے جابر ! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! بھلائی کی بات ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کو زندہ کیا اور اسے اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا : تم میرے سامنے جو چاہو آرزو کرو ! میں وہ چیز تمہیں عطا کروں گا ، اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! ہم نے تیری عبادت اس طرح نہیں کی ، جو تیری عبادت کا حق تھا ، تو میں تیرے سامنے یہ خواہش بیان کرتا ہوں کہ تو مجھے دنیا کی طرف لوٹا دے ، تاکہ میں تیرے نبی کے ساتھ جنگ میں حصہ لوں اور مجھے دوبارہ قتل کر دیا جائے ، تو پروردگار نے اس سے فرمایا : میری طرف سے یہ بات پہلے طے ہو چکی ہے کہ تم دنیا کی طرف واپس نہیں جاؤ گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے فیض بن وثیق کے حوالے سے ابوعبادہ زرقی سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15757
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2706)»