مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو منقول ہے
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : أَمَرَ أَبِي بِحَرِيرَةٍ فَصَنَعْتُ ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " مَا هَذَا يَا جَابِرُ ، أَلَحَمٌ ذَا ؟ " . قُلْتُ : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنَّ أَبِي أَمَرَنِي بِحَرِيرَةٍ فَصَنَعْتُهَا ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهَا . قَالَ : " ضَعْهَا " . فَأَتَيْتُ أَبِي ، فَقَالَ : مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : قَالَ لِي : " مَا هَذَا يَا جَابِرُ ؟ أَلَحْمٌ ؟ " . قَالَ أَبِي : أَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ أَحْسَبُ - يَشْتَهِي اللَّحْمَ . فَقَامَ إِلَى دَاجِنٍ فَذَبَحَهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَشُوِيَتْ ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَتَيْتُ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " جَزَاكُمُ اللَّهُ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ خَيْرًا ، وَلَا سِيَّمَا آلَ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ ، وَسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے ” حریرہ “ تیار کرنے کا حکم دیا ، میں تے وہ تیار کیا ، پھر انہوں نے مجھے حکم دیا تو میں اسے اُٹھا کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ کیا یہ گوشت ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! میرے والد نے مجھے حریرہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا وہ میں نے تیار کیا ، پھر انہوں نے مجھے ہدایت کی تو میں اسے اٹھا کے لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے رکھ دو ! میں اپنے والد کے پاس آیا ، انہوں نے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا ؟ میں نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے جابر ! یہ کیا ہے ؟ کیا یہ گوشت ہے ؟ راوی کہتے ہیں : میرے والد نے کہا: میرا خیال ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کی خواہش ہو رہی ہے ، پھر وہ بکری کی طرف اُٹھ کے گئے ، انہوں نے اسے ذبح کیا ، پھر ان کے حکم کے تحت اسے پکایا گیا پھر انہوں نے مجھے حکم دیا ، تو میں اس کا گوشت لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے انصار کے گروہ ! اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے ، خاص طور پر عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کے گھر والوں کو ( جزائے خیر عطا کرے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔