حدیث نمبر: 15745
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا بَنِي سَلَمَةَ ، مَنْ سَيِّدُكُمُ الْيَوْمَ ؟ " . قَالُوا : الْجَدُّ بْنُ قَيْسٍ وَلَكِنَّا نَبْخَلُهُ قَالَ : " وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ ! وَلَكِنَّ سَيِّدَكُمْ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ فِي الْبُخْلِ وَالسَّخَاءِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے بنو سلمہ ! آج تمہارا سردار کون ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جد بن قیس ہیں ، لیکن ہم انہیں بخیل سمجھتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بخل سے زیادہ بری بیماری اور کون سی ہے ؟ بلکہ تمہارا سردار عمرو بن جموح ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید مکی ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الزکوۃ میں ، کنجوسی اور سخاوت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15745
درجۂ حدیث محدثین: صحیح