مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ : أَنَّهُ حَضَرَ ذَلِكَ قَالَ : أَتَى عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أُقْتَلَ ، أَمْشِي بِرِجْلِي هَذِهِ صَحِيحَةً فِي الْجَنَّةِ - وَكَانَتْ رِجْلُهُ عَرْجَاءَ - ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ " . فَقَتَلُوا يَوْمَ أُحُدٍ هُوَ وَابْنُ أَخِيهِ وَمَوْلًى لَهُمْ ، فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَمْشِي بِرِجْلِهِ هَذِهِ صَحِيحَةً فِي الْجَنَّةِ " . فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهِمَا وَبِمَوْلَاهُمَا فَجُعِلُوا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ نَصْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ اُس وقت وہاں موجود تھے جب سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیتا ہوں اور قتل ہو جاتا ہوں ، تو کیا میں جنت میں اپنی اس ٹانگ کے ذریعے صحیح طور پر چل پاؤں گا ؟ راوی کہتے ہیں : اُن کی ایک ٹانگ میں لنگڑاہٹ تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : تو غزوہ احد کے دن ، وہ ان کے ایک بھتیجے اور ان کے ایک غلام شہید ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں گویا اس وقت بھی اس کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ یہ اپنی اس ٹانگ کے ذریعے صحیح طور پر چل رہا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں افراد اور ان کے غلام کے بارے میں حکم دیا ، تو انہیں ایک ہی قبر میں اتارا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن نصر انصاری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔