مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 15744
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَيِّدُكُمُ يَا بَنِي سَلَمَةَ ؟ " . قَالُوا : الْجَدُّ بْنُ قَيْسٍ عَلَى أَنَّا نَبْخَلُهُ قَالَ : " وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ ! بَلْ سَيِّدَكُمْ الْجَعْدُ القَطِطُ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ " . ¤ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے بنو سلمہ ! تمہارا سردار کون ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جد بن قیس ہیں ، ویسے ہم انہیں بخیل شمار کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بخل سے زیادہ بری بیماری اور کون سی ہے ؟ بلکہ تمہارا سردار گھنگھریالے بالوں والا فرد ، عمرو بن جموح ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ۔