مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 15742
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، مَنْ سَيِّدُكُمْ ؟ " . قَالُوا : جَدُّ بْنُ قَيْسٍ ، وَإِنَّا لَنَبْخَلُهُ . قَالَ : " لَيْسَ سَيِّدَكُمْ ، وَلَكِنَّ سَيِّدَكُمْ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ وَكَانَ سَخِيًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ : إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے انصار کے گروہ ! تمہارا سردار کون ہے ؟ ان لوگوں نے عرض کی : جد بن قیس ، ویسے ہم انہیں بخیل سمجھتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہارا سردار نہیں ہے ، بلکہ تمہارا سردار عمرو بن جموح ہے ، وہ سخی ہے ۔ “ ( شاید یہ الفاظ راوی کے ہیں : وہ سخی ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ بن ابراہیم بن عثمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔