مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَرَّ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُنَاجِيهِ ، فَمَرَّ وَلَمْ يُسَلِّمْ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : مَا مَنْعُهُ أَنْ يُسَلِّمَ ؟ إِنَّهُ لَوْ سَلَّمَ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ . ثُمَّ قَالَ : أَمَا إِنَّهُ مِنَ الثَّمَانِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَمَا الثَّمَانُونَ ؟ " . قَالَ : يَفِرُّ النَّاسُ عَنْكَ غَيْرَ ثَمَانِينَ فَيَصْبِرُونَ مَعَكَ ، رِزْقُهُمْ وَرِزْقُ أَوْلَادِهِمْ عَلَى اللَّهِ فِي الْجَنَّةِ . فَلَمَّا رَجَعَ حَارِثَةُ سَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا سَلَّمْتَ حِينَ مَرَرْتَ ؟ " . قَالَ : رَأَيْتُ مَعَكَ إِنْسَانًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ حَدِيثَكَ . قَالَ : " وَرَأَيْتُهُ ؟ " . قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ قَالَ " . فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، رِجَالُهُ كُلُّهُمْ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا جبرائیل علیہ السلام موجود تھے اور آپ سرگوشی میں ان کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ گزر گئے ، انہوں نے سلام نہیں کیا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے دریافت کیا ، انہوں نے سلام نہیں کیا ، اگر یہ سلام کرتا تو میں نے اسے جواب دینا تھا ، پھر انہوں نے کہا: شاید یہ شخص ” ثمانین “ میں سے ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ” ثمانون “ سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : سب لوگ آپ کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ جائیں گے ، صرف ” ثمانین “ ( یعنی اتنی افراد ) کا معاملہ مختلف ہے وہ آپ کے ساتھ جمے رہیں گے ، جنت میں ان کو اور ان کی اولاد کو رزق فراہم کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے ، جب سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ واپس گئے تو انہوں نے سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : جب تم پہلے گزرے تھے تو تم نے سلام نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کے ساتھ ایک شخص کو دیکھا تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں آپ کی گفتگو میں مخل ہو جاؤں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو دیکھا تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا : وہ جبرائیل علیہ السلام تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ بات بتائی کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے جو آپ سے کہا: تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے اور ان سب کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔