مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُنَاجِي جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزَعَمَ أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ تَجَنَّبَ أَنْ يَدْنُوَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَخَوُّفًا أَنْ يَسْمَعَ حَدِيثَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ إِذْ مَرَرْتَ بِي الْبَارِحَةَ ؟ " . قَالَ : رَأَيْتُكَ تُنَاجِي رَجُلًا فَخَشِيتُ أَنْ تَكْرَهَ أَنْ أَدْنُوَ مِنْكُمَا قَالَ : " فَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ ؟ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَلَوْ سَلَّمْتَ لَرَدَّ السَّلَامَ " . وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ غَيْرِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤موسیٰ بن عقبہ بیان کرتے ہیں : ابوسلمہ نے اُن صاحب کے حوالے سے
یہ روایت مجھے بیان کی ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہے تھے ، ابوسلمہ کا یہ بیان کرنا ہے : وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نہیں گئے تھے ، اس اندیشے کے تحت کہ شاید آپ کی گفتگو میں مخل نہ ہوں اگلے دن جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تم نے اس وقت سلام کیوں نہیں کیا ؟ جب تم گزشتہ رات میرے پاس سے گزرے تھے ، تو انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کو ایک شخص کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھا تھا تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو یہ چیز ناگوار نہ گزرے کہ میں آپ کی بات میں مخل ہوا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو وہ شخص کون تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا ، اگر تم سلام کرتے ، تو اس نے سلام کا جواب دینا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ابوسلمہ نامی راوی کے علاوہ سے یہ بات سنی ہے کہ وہ فرد سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔