مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ : أَنَّ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ جِبْرِيلُ جَالِسٌ فِي الْمَقَاعِدِ ، فَسَلَّمَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ أَجَزْتُ ، فَلَمَّا رَجَعْتُ وَانْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَلْ رَأَيْتَ الَّذِي كَانَ مَعِي ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " إِنَّهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا جبرائیل علیہ السلام موجود تھے اور آپ ” مقاعد “ میں تشریف فرما تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا ، پھر میں گزر گیا ، جب میں واپس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران فارغ ہو چکے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اُس فرد کو دیکھا تھا ؟ جو میرے ساتھ موجود تھا ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا اور اس نے تمہیں سلام کا جواب دیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔