حدیث نمبر: 15730
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ قَرَأَ سُورَةَ بَرَاءَةَ ، فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ : انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا فَقَالَ : أَلَّا أَرَى رَبِّي يَسْتَنْفِرُنِي [شَابًّا وَشَيْخًا جَهَّزُونِي ، فَقَالَ لَهُ بَنُوهُ : قَدْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قُبِضَ ، وَغَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ ، وَغَزَوْتُ مَعَ عُمَرَ فَنَحْنُ نَغْزُوا عَنْكَ . فَقَالَ : جَهِّزُونِي ، فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَمَاتَ ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ جَزِيرَةً يَدْفِنُونَهُ فِيهَا إِلَّا بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ فَلَمْ يَتَغَيَّرْ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سورت توبہ کی تلاوت کی ، جب وہ اس مقام پر پہنچے : ” ہلکے یا بوجھل ہونے کے عالم میں نکل کھڑے ہو ۔ “ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ دیکھ رہا ہوں ، میرے پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا ہے ، میں نکل کھڑا ہوؤں ، خواہ میں جوان ہوں یا بوڑھا ہوں ، تو تم لوگ مجھے سامان سفر تیار کر کے دو ! ان کے بیٹوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے رہے ہیں ، یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے رہے ہیں ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے رہے ، اور اب ہم آپ کی جگہ جنگ میں حصہ لے لیں گے ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ مجھے سامان فراہم کرو ! پھر وہ سمندری سفر پر روانہ ہوئے ، اور اس دوران ان کا انتقال ہو گیا ہے ، لوگوں کو ان کو دفن کرنے کے لئے کوئی جزیرہ نہیں ملا ، ایسا جزیرہ سات دن بعد ملا ، لیکن اس دوران ان کی میت خراب نہیں ہوئی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15730
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3413)»