حدیث نمبر: 15731
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ غَازِيًا فِي الْبَحْرِ ، فَمَاتَ فِي السَّفِينَةِ ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ مَكَانًا يَدْفِنُونَهُ فِيهِ ، فَانْتَظَرُوا بِهِ سِتَّةَ أَيَّامٍ حَتَّى وَجَدُوا لَهُ بَعْدَ سَبْعٍ مَكَانًا يَدْفِنُونَهُ فِيهِ ، وَلَمْ يَتَغَيَّرْ كَمَا هُوَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سمندری جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلے ان کا کشتی میں انتقال ہو گیا ، ان لوگوں کو انہیں دفن کرنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ملی ، تو وہ چھ دن تک انتظار کرتے رہے ، یہاں تک کہ سات دن بعد انہیں ایک جگہ ملی ، جہاں ان لوگوں نے انہیں دفن کیا ، تو اس دوران ان کا جسم خراب نہیں ہوا ، بلکہ ویسے ہی رہا جیسے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15731
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4683)»