حدیث نمبر: 15663
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ : أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى كُفَّارِ قُرَيْشٍ كِتَابًا وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ ، فَقَالَ : " انْطَلِقَا حَتَّى تُدْرِكَا امْرَأَةً مَعَهَا كِتَابٌ ، وَائْتِيَانِي بِهِ " . فَانْطَلَقَا حَتَّى لَقِيَاهَا ، فَقَالَا : أَعْطِينَا الْكِتَابَ الَّذِي مَعَكِ ، وَأَخْبَرَاهَا أَنَّهُمَا غَيْرُ مُنْصَرِفَيْنِ حَتَّى يَنْزِعَا كُلَّ ثَوْبٍ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَلَسْتُمَا رَجُلَيْنِ مُسْلِمَيْنِ ؟ قَالَا : بَلَى ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَنَا : أَنَّ مَعَكِ كِتَابًا ، فَلَمَّا أَيْقَنَتْ أَنَّهَا غَيْرُ مُنْفَلِتَةٍ مِنْهُمَا حَلَّتِ الْكِتَابَ مِنْ رَأْسِهَا فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِمَا ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاطِبًا حَتَّى قَرَأَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ ، فَقَالَ : " أَتَعْرِفَ هَذَا الْكِتَابَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ " . قَالَ : هُنَاكَ وَلَدِي وَقَرَابَتِي ، وَكُنْتُ امْرَأً غَرِيبًا فِيكُمْ مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : ائْذَنْ لِي فِي قَتْلِ حَاطِبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ، وَإِنَّكَ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ إِنِّي غَافِرٌ لَكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : اُن کے والد نے قریش کے کفار کی طرف ایک مکتوب لکھا ، سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، اُنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ارشاد فرمایا : تم دونوں جاؤ ! تم ایک عورت کے پاس پہنچو گے ، جس کے پاس ایک مکتوب ہو گا ، تم اس مکتوب کو میرے پاس لے آنا ، یہ دونوں حضرات تشریف لے گئے ، اُن کی ملاقات اس عورت سے ہوئی ، ان دونوں نے کہا: تم ہمیں اپنے پاس موجود مکتوب دیدو ، ان دونوں نے اس عورت کو خبردار کیا کہ وہ دونوں اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے ، جب تک اس کی جامہ تلاشی نہیں لے لیتے ، اس عورت نے دریافت کیا : کیا تم دونوں مسلمان نہیں ہو ؟ اُن دونوں حضرات نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ تمہارے پاس ایک مکتوب ہے ، جب اس عورت کو یہ یقین ہو گیا کہ وہ دونوں ایسے نہیں جائیں گے ، تو اس عورت نے اپنے سر میں سے مکتوب نکالا اور وہ ان دونوں حضرات کے حوالے کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان کے سامنے یہ مکتوب پڑھا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس مکتوب سے واقف ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے عرض کی : وہاں میری اولاد اور رشتہ دار موجود ہیں ، اور میں قریش کے درمیان ایک غریب الوطن شخص ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ مجھے حاطب کو قتل کرنے کی اجازت دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس نے بدر میں شرکت کی ہے اور تم نہیں جانتے ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر یہ ارشاد فرمایا ہو : ” تم جو چاہو عمل کرو ! میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15663
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3066)»