حدیث نمبر: 15662
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : كَتَبَ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ كِتَابًا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ ، فَأَطْلَعَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ فِي أَثَرِ الْكِتَابِ ، فَأَدْرَكَا الْمَرْأَةَ عَلَى بَعِيرٍ ، فَاسْتَخْرَجَاهُ مِنْ قُرُونِهَا ، فَأَتَيَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُرِئَ عَلَيْهِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى حَاطِبٍ فَقَالَ : " يَا حَاطِبُ ، أَنْتَ كَتَبْتَ هَذَا [ الْكِتَابَ ] ؟ " . قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَنَاصِحٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، وَلَكِنِّي كُنْتُ غَرِيبًا فِي أَهْلِ مَكَّةَ ، وَكَانَ أَهْلِي بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ وَخَشِيتُ عَلَيْهِمْ ، فَكَتَبْتُ كِتَابًا لَا يَضُرُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ شَيْئًا ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ مَنْفَعَةً لِأَهْلِي ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمْكِنِّي مِنْ حَاطِبٍ ; فَإِنَّهُ قَدْ كَفَرَ فَأَضْرِبُ عُنُقَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، مَا يُدْرِيكَ ؟ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى هَذِهِ الْعِصَابَةِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حاطب بن ابی بلتعہ ( رضی اللہ عنہ ) نے اہل مکہ کی طرف ایک مکتوب لکھا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس کی اطلاع دیدی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی اور زبیر کو اس مکتوب کے پیچھے بھیجا ، وہ دونوں ایک عورت کے پاس پہنچے ، جو ایک اونٹ پر سوار تھی ، ان دونوں نے اس کے بالوں میں سے وہ مکتوب نکلوایا اور وہ مکتوب لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، وہ مکتوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب کو بلوایا اور دریافت کیا : اے حاطب ! کیا تم نے یہ مکتوب لکھا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خیرخواہ ہوں لیکن میں مکہ میں غریب الوطن تھا ، اور میرے اہل خانہ ان لوگوں کے درمیان موجود ہیں ، مجھے ان اہل خانہ کے حوالے سے اندیشہ ہوا ، تو میں نے ایک ایسا مکتوب لکھا ، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نقصان نہیں کر سکتا ، لیکن یہ ہو سکتا تھا کہ وہ میرے اہل خانہ کے لئے نفع کا باعث بن جاتا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی تلوار نکالی اور پھر میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے حاطب کو قتل کرنے کی اجازت دیجئے ، کیونکہ اس نے کفر کا ارتکاب کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن خطاب ! تمہیں کیا معلوم ؟ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے اہل بدر سے تعلق رکھنے والے اس گروہ کی طرف جھانک کر دیکھا ہو اور پھر یہ فرمایا ہو : ” تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اس کو امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15662
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2605)»