حدیث نمبر: 15660
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَذْكُرُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ غَزْوَهُمْ ، فَدُلَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي مَعَهَا الْكِتَابُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ، فَأَخَذَ كِتَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا . فَقَالَ : " يَا حَاطِبُ ، أَفَعَلْتَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا إِنِّي لَمْ أَفْعَلْهُ غِشًّا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا نِفَاقًا ، قَدْ عَلِمْتُ : أَنَّ اللَّهَ مُظْهِرُ رَسُولِهِ وَمُتِمُّ لَهُ أَمْرَهُ ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ وَكَانَتْ وَالِدَتِي مَعَهُمْ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَّخِذَهَا عِنْدَهُمْ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا ؟ فَقَالَ : " تَقْتُلُ رَجُلًا مَنْ أَهْلِ بَدْرٍ ؟ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَأَحْمَدُ أَتَمُّ مِنْهُ ، وَقَالَ فِيهِ : غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ عَزِيزًا بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کی طرف خط لکھا ، جس میں یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں رہنمائی کی ، جس کے پاس وہ مکتوب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کی طرف لوگوں کو بھیجا اور اس عورت کے سر میں سے وہ مکتوب حاصل کر لیا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے حاطب ! کیا تم نے ایسا کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کسی کھوٹ کی وجہ سے ، یا کسی منافقت کی وجہ سے ایسا نہیں کیا ہے ، مجھے یہ پتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو غلبہ عطا کر دینا ہے ، اور ان کے معاملے کو مکمل کر دینا ہے ، اصل بات یہ ہے کہ میں ان لوگوں کے درمیان رہا ہوں ، اور میری والدہ ان کے ساتھ ابھی بھی رہ رہی ہیں ، تم میں یہ چاہ رہا تھا کہ اس حوالے سے اپنی والدہ کی خاطر اُن پر کوئی احسان کر دوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : کیا میں اس کی گردن اڑا دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کو قتل کرو گے ؟ تمہیں کیا پتا ؟ ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا ہو اور یہ فرما دیا ہو : ” تم جو چاہو عمل کرو ! “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر اسے نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں اُن کے درمیان نمایاں حیثیت رکھتا تھا ( یا میں اُن کے درمیان اجنبی تھا ) ۔ “ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15660
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2265) اخرجه احمد فى المسند (349/3)»