حدیث نمبر: 15659
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ يَوْمَ مَاتَ ، فَأَحْنَى عَلَيْهِ كَأَنَّهُ يُوصِيهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَأَوْا فِي عَيْنَيْهِ أَثَرَ الْبُكَاءِ . ثُمَّ أَحَنَى عَلَيْهِ الثَّانِيَةَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَأَوْهُ يَبْكِي . ثُمَّ أَحَنَى عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَلَهُ شَهِيقٌ ، فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ مَاتَ ، فَبَكَى الْقَوْمُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَهْ ، إِنَّمَا هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ ; فَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ " . ثُمَّ قَالَ : " أَذْهِبْ عَنْكَ أَبَا السَّائِبِ ، فَلَقَدْ خَرَجْتَ وَلَمْ تَتَلَبَّسْ مِنْهَا بِشَيْءٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ سَبَبُ إِسْلَامِهِ فِي التَّفْسِيرِ فِي سُورَةِ النَّحْلِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جس دن سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، اُس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، آپ اُن پر جھک گئے ، یوں جیسے آپ انہیں کوئی تلقین کر رہے ہوں ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا ، تو لوگوں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں میں رونے کا نشان موجود ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ ان پر جھک گئے ، پھر آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا ، تو لوگوں نے آپ کو دیکھا کہ آپ رو رہے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیسری مرتبہ ان پر جھک گئے ، پھر آپ نے سر اٹھایا تو آپ کے رونے کی آواز آ رہی تھی ، لوگوں کو اندازہ ہو گیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے ، حاضرین بھی رونے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رُک جاؤ ! بے شک یہ شیطان کی طرف سے ہے ، تو تم لوگ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوسائب : تم ایسی حالت میں ( یعنی دنیا سے رخصت ہو کہ جب ) تم اس سے نکلے ، تو تم اس کے حوالے سے کسی چیز کے بارے میں التباس کا شکار نہیں ہوئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے عمر بن عبدالعزیز بن مقلاص کے حوالے سے ، ان کے والد سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے اسلام قبول کرنے کا سبب ، تفسیر سے متعلق کتاب میں سورہ نحل سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15659
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (10826)»