حدیث نمبر: 15628
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى : أَدْخِلُوهُ ، فَأُدْخِلَ عَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ لَهُ ، فَإِذَا رَجُلٌ طِوَالٌ ، ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ ، كَأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ حَتَّى قَالَ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ أَقْبَلَ يَمْشِي أَوَّلَ الْكَتِيبَةِ رَاجِلًا حَتَّى كَانَ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ طَعَنَ رَجُلًا فِي رُكْبَتِهِ بِالرُّمْحِ فَصَرَعَهُ ، فَانْكَفَأَ الْمِغْفَرُ عَنْهُ ، فَاضْرِبْهُ فَإِذَا رَأَسُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ . ¤ قَالَ : يَقُولُ لَهُ مَوْلًى لَنَا : أَيُّ يَدٍ كَفَتَاهُ ، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا أَبْيَنَ ضَلَالَةً مِنْهُ . رَوَاهُ [ كُلَّهُ ] الطَّبَرَانِيُّ ، [ وَعَبْدُ اللَّهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ ] رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ الْفِتَنِ أَحَادِيثُ ، وَبَعْضُ مَا كَانَ بَيْنَهُمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : عبدالاعلیٰ نے کہا: تم لوگ اسے اندر آنے دو ، اُسے اندر لایا گیا ، تو اس کے جسم پر کپڑوں کے ٹکڑے تھے ، وہ ایک طویل القامت شخص تھا ، اس کی جسامت ایسی تھی کہ وہ اس اُمت سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ، یہاں تک کہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جب جنگ صفین کا موقع آیا ، تو وہ جنگی دستے کے آگے چلتے ہوئے آئے ، یہاں تک کہ انہوں نے دونوں فوجوں کے درمیان میں ، ایک شخص کے گھٹنے پر نیزہ مار کر اسے پچھاڑ دیا ، اُن کا خود ہٹ گیا ، تو اُس وقت میں نے اُن پر ضرب لگائی ، وہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا سر تھا ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہمارے غلام نے ( یا ہمارے آقا نے ) اُس سے کہا: اس کے دونوں ہاتھوں میں سے کون سا ، اس کو ساتھ ملائے گا ، میں نے اس سے زیادہ گمراہ شخص کوئی نہیں دیکھا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، اور عبداللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس سے پہلے ” کتاب الفتن “ میں کچھ روایات گزر چکی ہیں ، جن میں صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کا ذکر ہوا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15628
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح