حدیث نمبر: 15627
وَعَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ : كُنْتُ بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ الْقُرَشِيِّ ، فِي مَنْزِلِ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنَّ قَاتِلَ عَمَّارٍ بِالْبَابِ أَفَتَأْذُنُونَ لَهُ فَيَدْخُلَ ؟ فَكَرِهَ بَعْضُ [ الْقَوْمِ ] ، وَقَالَ بَعْضٌ : أَدْخِلُوهُ ، [ فَدَخَلَ ] ، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ لَهُ فَقَالَ : لَقَدْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَنْفَعُ أَهْلِي فَأَرُدُّ عَلَيْهِمُ الْغَنَمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَبَا الْغَادِيَةِ ، كَيْفَ كَانَ أَمْرُ عَمَّارٍ ؟ قَالَ : كُنَّا نَعُدُّ عَمَّارًا مِنْ خِيَارِنَا حَتَّى سَمِعْتُهُ يَوْمًا فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ يَقَعُ فِي عُثْمَانَ ، فَلَوْ خَلُصْتُ إِلَيْهِ لَوَطِئْتُهُ بِرِجْلِي ، فَمَا صَلَّيْتُ بَعْدَ ذَلِكَ صَلَاةً إِلَّا قُلْتُ : اللَّهُمَّ لَقِّنِي عَمَّارًا ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ صِفِّينَ اسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ يَسُوقُ الْكَتِيبَةَ ، فَاخْتَلَفْتُ أَنَا وَهُوَ ضَرْبَتَيْنِ ، فَبَدَرْتُهُ فَضَرَبْتُهُ فَكَبَا لِوَجْهِهِ ، ثُمَّ قَتَلْتُهُ . . ¤
محمد محی الدین

کلثوم بن جبر بیان کرتے ہیں : میں ” واسط القصب “ میں عنبسہ بن سعید کے گھر میں عبدالاعلیٰ بن عبداللہ کے پاس موجود تھا اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا: دروازے پر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا قاتل موجود ہے ، کیا تم لوگ اسے یہ اجازت دیتے ہو کہ وہ اندر آ جائے ؟ بعض لوگوں نے اس چیز کو ناپسند کیا اور بعض نے یہ کہا: اسے اندر آنے دو ! وہ اندر آیا ، وہ ایک ایسا شخص تھا ، جس کے جسم پر کپڑوں کے ٹکڑے تھے ، اس نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے ، میں اس وقت اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا ، حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: اے ابوالغادیہ ! سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا معاملہ کیسا تھا ؟ اس نے جواب دیا : ہم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو اپنے بہترین افراد میں سے ایک شمار کرتے تھے ، یہاں تک کہ ایک دن میں نے انہیں مسجد قباء میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے ہوئے سنا ، اگر میرے بس میں ہوتا ، تو میں انہیں اپنے اس پاؤں کے ذریعے روند دیتا ، اس کے بعد میں ہر نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتا تھا : اے اللہ ! عمار سے میرا سامنا کروا دینا ، یہاں تک کہ جب جنگ صفین کا موقع آیا ، تو ایک شخص میرے سامنے آیا ، جو ایک فوجی دستے کی کمان کر رہا تھا ، ہم دونوں نے ایک دوسرے پر دو ضربیں لگائیں ، پھر میں نے لپک کر اس پر وار کیا اور اسے قتل کر دیا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15627
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (363/22)»