مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ عُمَرَ إِذْ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ يَكَادُ الْجُلُوسُ يُوَازُونَهُ مِنْ قِصَرِهِ ، فَضَحِكَ عُمَرُ حِينَ رَآهُ ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ عُمَرَ وَيُضَاحِكُهُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَيْهِ ، ثُمَّ وَلَّى فَاتَّبَعَهُ عُمَرُ بَصَرَهُ حَتَّى تَوَارَى ، فَقَالَ : كُنَيْفٌ مُلِئَ فِقْهًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، قریب تھا کہ وہ لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاتے ، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب اُنہیں دیکھا تو مسکرا دیے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ گفتگو کرنے لگے اور انہیں دیکھ کر مسکراتے رہے ، وہ سیدنا عمر کے پاس ہی کھڑے رہے ، پھر جب وہ واپس چلے گئے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلسل ان کی طرف دیکھتے رہے ، یہاں تک کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک ایسا برتن ( یعنی فرد ) ہے ، جو سمجھ بوجھ سے بھرا ہوا ہے ( یہاں سمجھ بوجھ سے مراد ، دین کی سمجھ بوجھ ، یعنی دین کا علم ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔