❮
❯
حدیث نمبر: 15571
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ عُمَرَ إِذْ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ يَكَادُ الْجُلُوسُ يُوَازُونَهُ مِنْ قِصَرِهِ ، فَضَحِكَ عُمَرُ حِينَ رَآهُ ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ عُمَرَ وَيُضَاحِكُهُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَيْهِ ، ثُمَّ وَلَّى فَاتَّبَعَهُ عُمَرُ بَصَرَهُ حَتَّى تَوَارَى ، فَقَالَ : كُنَيْفٌ مُلِئَ فِقْهًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین

زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، وہ اتنے پست قد تھے کہ بیٹھے ہوئے لوگ تقریباً ان کے برابر تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب اُنہیں دیکھا تو ہنس پڑے ، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ گفتگو کرنے لگے اور ان کے ساتھ ہنستے رہے ، وہ سیدنا عمر کے پاس کھڑے ہوئے تھے ، پھر جب وہ واپس چلے گئے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلسل ان کی طرف دیکھتے رہے ، یہاں تک کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک ایسا برتن ( یعنی فرد ) ہے ، جو سمجھ بوجھ سے بھرا ہوا ہے ( یہاں سمجھ بوجھ سے مراد ، دین کی سمجھ بوجھ ، یعنی دین کا علم ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15571
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8477)»