حدیث نمبر: 15572
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ : قَدْ بَعَثْتُ عَمَّارًا أَمِيرًا ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ وَزِيرًا ; وَهُمَا مِنَ النُّجَبَاءِ ، مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، فَاقْتَدُوا بِهِمَا وَاسْمَعُوا مِنْ قَوْلِهِمَا ، وَقَدْ آثَرْتُكُمْ بِعَبْدِ اللَّهِ عَلَى نَفْسِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَارِثَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

حارثہ بن مضرب بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی طرف خط لکھا ، میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو وزیر بنا کر بھیجا ہے ، یہ دونوں حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے برگزیدہ افراد میں سے ایک ہیں ، جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، تو تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو اور ان دونوں کے حکم پر عمل پیرا ہو ، میں نے عبداللہ کے حوالے سے تمہارے لیے ، اپنی ذات پر ایثار کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حارثہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15572
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8478)»