حدیث نمبر: 15567
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُطْبَةً خَفِيفَةً ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، قُمْ فَاخْطُبْ " . فَقَصَّرَ دُونَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ قَالَ : " يَا عُمَرُ ، قُمْ فَاخْطُبْ " . فَقَامَ فَقَصَّرَ دُونَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدُونَ أَبِي بَكْرٍ . فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ قَالَ : " يَا فُلَانُ ، قُمْ فَاخْطُبْ " . فَشَفَقَ الْقَوْلَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْكُتْ أَوِ اجْلِسْ ; فَإِنَّ التَّشْقِيقَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَإِنَّ الْبَيَانَ مِنَ السِّحْرِ " . ¤ وَقَالَ : " يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ، قُمْ فَاخْطُبْ " . فَقَامَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - رَبُّنَا ، وَإِنَّ الْإِسْلَامَ دِينُنَا ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ إِمَامُنَا ، وَإِنَّ الْبَيْتَ قِبْلَتُنَا ، وَإِنَّ هَذَا نَبِيُّنَا - وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِينَا مَا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى لَنَا وَرَسُولُهُ ، وَكَرِهْنَا مَا كَرِهَ اللَّهُ تَعَالَى لَنَا وَرَسُولُهُ . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَصَابَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ ، أَصَابَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ وَصَدَقَ ، وَرَضِيتُ بِمَا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى لِي وَلِأُمَّتِي وَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ " وَكَرِهْتُ مَا كَرِهَ اللَّهُ تَعَالَى لِي وَلِأُمَّتِي وَابْنِ أُمِّ عَبْدٍ ". ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے مختصر خطبہ ارشاد فرمایا ، جب آپ خطبہ دے کر فارغ ہوئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوبکر ! تم اُٹھو اور تم خطبہ دو ، انہوں نے خطبہ دیا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ سے مختصر تھا ، جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! تم اٹھو اور تم خطبہ دو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اُٹھے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں سے مختصر خطبہ دیا ، جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے فلاں ! تم اُٹھو اور خطبہ دو ! اس شخص نے بنا سنوار کر باتیں شروع کیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم خاموش ہو جاؤ ! راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : تم بیٹھ جاؤ ! کیونکہ اس طرح بنا سنوار کر بات کرنا ، شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ، اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن عبد ! تم اُٹھو اور خطبہ دو ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد یہ کہا: ” اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ ہمارا پروردگار ہے ، بے شک اسلام ہمارا دین ہے ، بے شک قرآن ہمارا پیشوا ہے ، بے شک کعبہ ہمارا قبلہ ہے ، بے شک ” یہ “ ہمارے نبی ہیں ۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ۔ تو ہم اُس سے راضی ہیں ، جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے راضی ہیں ، اور اُس چیز کو ہم ناپسند کرتے ہیں ، جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے ناپسندیدہ قرار دیا ہو ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابن ام عبد نے ٹھیک کہا: ہے ، ابن ام عبد نے ٹھیک کہا: ہے ، اور اس نے سچ کہا: ہے ، میں اس چیز سے راضی ہوں ، جس سے اللہ تعالیٰ میرے لئے اور میری اُمت اور ابن ام عبد کے لئے راضی ہو اور میں اُس چیز کو ناپسند کرتا ہوں ، جسے اللہ تعالیٰ میرے لئے اور میری امت کے لئے ، اور ابن ام عبد کے لیے ناپسند کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ عبیداللہ بن عثمان بن خثیم نامی راوی نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15567
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع